
ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں فی الحال معطل کر دی ہیں، تاہم خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے، خصوصاً جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فوجی آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں، تاہم اسرائیلی حملوں کے تسلسل کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان، جسے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت ور مسلح افواج نے مظلوم لبنانی عوام کی حمایت میں اس اسرائیل کو دردناک جواب دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے جارحیت اور دشمنانہ کارروائیاں، بالخصوص جنوبی لبنان میں حملے جاری رہے تو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
ایرانی فوج کے مطابق حالیہ کارروائیاں لبنان کے لیے حمایت اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئیں، جب کہ آئندہ ردعمل کا انحصار اسرائیل کے طرز عمل پر ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لبنان میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں اور ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ خطے میں وسیع تر کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
واضح رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے جواب میں ایران نے رات گئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان پیر کے روز علی الصبح ہونے والے حملوں کے بعد یمن کے حوثی باغیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل داغ دیے اور خبردار کیا کہ وہ بحیرہ احمر میں اسرائیل سے وابستہ تمام بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک مختصر پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ایک دوسرے پر فائرنگ یا حملے روکنے چاہئیں۔
اسرائیلی فوج نے باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے میزائلوں کی دوسری بڑی لہر داغی گئی ہے جس کے بعد پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسرائیلی حملوں کے فوری بعد ایران نے اپنے ملک کے سب سے بڑے ہوائی اڈے، تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گرد فضائی حدود کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند کر دیا جب کہ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے بھی اپنے شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں اسکول بند کر دیے اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کے مطابق ماہشہر میں پیٹرو کیمیکل صنعتوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں حیفا میں صنعتوں پر حملہ کیا، اسرائیل نے تیل کی صنعتوں، غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر ایک خطرناک کھیل شروع کیا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر میزائل حملے فوری طور پر روکنے کا زور دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک مختصر پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ایک دوسرے پر فائرنگ یا حملے روکنے چاہئیں۔