
امریکا کی اربوں ڈالر مالیت کی دفاعی کمپنی شیلڈ اے آئی کے فوجی ڈرون سے پیش آنے والے ایک خوفناک حادثے میں رومانیہ کی بحریہ کی خاتون اہلکار دو انگلیاں گنوا بیٹھی۔ تربیتی مشق کے دوران ہونے والے اس واقعے کے بعد کمپنی کے ڈرون پروگرام اور حفاظتی اقدامات ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 12 مئی کو امریکی ریاست ٹیکساس کے ساحل کے قریب ایک کشتی پر ہونے والی تربیتی مشق کے دوران رومانیہ کی بحریہ کی ایک خاتون اہلکار کا ہاتھ شیلڈ اے آئی کے وی-بیٹ ڈرون کے پروپیلر میں پھنس گیا۔
رومانیہ کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق حادثے میں اہلکار کی دو انگلیاں جسم سے الگ ہوگئیں جبکہ تیسری انگلی فریکچر ہوگئی۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انگلیاں دوبارہ جوڑنے کے لیے دو آپریشن کیے گئے، تاہم بعد میں ان کی حالت مزید خراب ہونے پر انہیں میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں۔ رائٹرز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران وی-بیٹ ڈرون 50 سے زائد مرتبہ حادثات کا شکار ہو چکا ہے۔
تحقیقات کے دوران سابق ملازمین، سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کئی برسوں سے تکنیکی خرابیوں اور حفاظتی مسائل سے دوچار ہے۔ بعض سابق ملازمین کا الزام ہے کہ جن افراد نے حفاظتی خدشات اٹھائے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک موقع پر شیلڈ اے آئی کے ایک ملازم اور اس کے بچے کو لے جانے والا سیسنا طیارہ وی-بیٹ ڈرون سے ممکنہ فضائی تصادم سے بچنے کے لیے ہنگامی کارروائی پر مجبور ہوگیا تھا۔
شیلڈ اے آئی پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کے وی-بیٹ ڈرون کی بعض تکنیکی خامیوں کو چھپایا تاکہ فوجی معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔ اس حوالے سے محکمہ محنت میں ایک شکایت بھی دائر کی گئی ہے۔
کمپنی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حفاظتی ریکارڈ مضبوط ہے اور وی-بیٹ آج بھی اپنی نوعیت کے سب سے زیادہ آزمودہ ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔ کمپنی کے مطابق 2019 سے اب تک یہ ڈرون 18 ہزار گھنٹے سے زائد پروازیں کر چکا ہے۔
شیلڈ اے آئی کا کہنا ہے کہ رومانیہ کی اہلکار کے زخمی ہونے کا واقعہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث نہیں بلکہ مقررہ حفاظتی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیش آیا۔
واضح رہے کہ شیلڈ اے آئی نے 2021 میں مارٹن یو اے وی نامی کمپنی خریدنے کے بعد وی-بیٹ ڈرون پروگرام حاصل کیا تھا۔ مارچ 2026 میں ہونے والے سرمایہ کاری کے ایک دور کے بعد کمپنی کی مالیت 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد اسے سلیکون ویلی کی بڑی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ادھر رومانیہ کی بحریہ نے واضح کیا ہے کہ 3 کروڑ ڈالر مالیت کا وی-بیٹ ڈرون معاہدہ بدستور برقرار ہے جبکہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج آنے تک کسی ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔