بھارت میں ہر چھوٹا بڑا احتجاج ’جنتر منتر‘ پر ہی کیوں کیا جاتا ہے؟

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھ جون کو امریکا سے بھارت واپسی کے بعد نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر احتجاج کریں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد ایک بار پھر یہ سوال زیرِ بحث آ گیا ہے کہ آخر بھارت میں احتجاج، دھرنوں اور عوامی تحریکوں کے لیے جنتر منتر کا انتخاب ہی کیوں کیا جاتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ جنتر منتر صرف ایک تاریخی عمارت یا فلکیاتی رصدگاہ نہیں بلکہ گزشتہ تین دہائیوں سے بھارتی جمہوریت، عوامی مطالبات اور احتجاجی سیاست کی ایک مضبوط علامت بن چکا ہے۔

بھارت کے دور دراز علاقوں سے آنے والے کسانوں، طلبہ، ملازمین، سماجی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں نے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لیے بارہا اسی مقام کا رخ کیا ہے۔

جنتر منتر کیا ہے؟

نئی دہلی کے قلب میں واقع جنتر منتر 1724 میں جے پور کے حکمران مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم نے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سورج، چاند اور ستاروں کی حرکات کا مشاہدہ اور فلکیاتی حساب کتاب تھا۔

1857 کی جنگِ آزادی کے دوران اس تاریخی مقام کو نقصان پہنچا، تاہم بعد ازاں اس کی مرمت کردی گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رصدگاہ اپنی سائنسی اور تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں کا بھی مرکز بنتی چلی گئی۔

جنتر منتر کی سب سے بڑی طاقت اس کا محلِ وقوع ہے۔ یہ بھارتی پارلیمنٹ، راشٹرپتی بھون (ایوانِ صدر) اور اہم سرکاری دفاتر کے قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں ہونے والے مظاہرے براہِ راست ایوانِ اقتدار اور میڈیا کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

یوں سمجھ لیں کہ ایک طرح سے یہ بھارت کا ’ڈی چوک‘ ہے۔

دہلی میں ایسے عوامی مقامات بھی محدود ہیں جہاں ہزاروں افراد پر مشتمل اجتماعات آسانی سے منعقد کیے جا سکیں۔ جنتر منتر کے اطراف کی سڑکیں وسیع ہیں، بنیادی ڈھانچہ بہتر ہے اور احتجاجی مقام کے طور پر قائم اس کی شناخت اسے دیگر مقامات پر فوقیت دیتی ہے۔

جنتر منتر کو بعض حلقے ’’مظاہرین کی جنت‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔ یہاں احتجاجی سرگرمیاں اتنی عام ہیں کہ اس کے اطراف میں ایک مستقل بازار سا قائم ہو چکا ہے۔

یہاں مظاہرین کے لیے کھانے پینے کی اشیا، دھوپ سے بچاؤ کے چشمے، جھنڈے، ٹوپیاں، بینرز اور احتجاجی سامان آسانی سے دستیاب ہوتا ہے، جس سے احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

دہلی پولیس نے 2014 میں ایک اشتہار بھی جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا: ’’پانچ ہزار افراد تک کا احتجاج کرنا چاہتے ہیں؟ جنتر منتر میں خوش آمدید۔‘‘

جنتر منتر کی احتجاجی تاریخ

اس مقام پر پہلا نمایاں احتجاج 1993 میں دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈی یو ایس یو) کے صدر آشیش سود نے مرکزی حکومت کے ایک فیصلے کے خلاف کیا تھا۔ اس کے بعد یہ مقام مسلسل عوامی تحریکوں کا مرکز بنتا چلا گیا۔

یہاں ہر روز کسی نہ کسی مطالبے کے حق میں مظاہرین موجود ہوتے ہیں جبکہ بعض گروہ مہینوں بلکہ برسوں تک اپنے مطالبات کے لیے اسی مقام پر ڈٹے رہے ہیں۔

2011 میں معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف اپنی تاریخی تحریک کا آغاز جنتر منتر سے کیا تھا۔ لوک پال بل کے مطالبے پر شروع ہونے والی اس تحریک نے پورے بھارت میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی تھی۔

اسی طرح نرمدہ بچاؤ تحریک، تامل ناڈو کے کسانوں کے احتجاج، سابق فوجیوں، طلبہ تنظیموں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور سرکاری ملازمین نے بھی اپنے مطالبات کے لیے بارہا جنتر منتر کا انتخاب کیا۔

2017 میں نیشنل گرین ٹریبونل نے جنتر منتر پر احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم 2018 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نئے قواعد وضع کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد یہ مقام دوبارہ احتجاجی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا۔

ابھیجیت دیپکے کا احتجاج کیوں اہم ہے؟

بھارتی عدالت کی جانب سے عوام کو کاکروچ سے تشبیہہ دیے جانے کے بعد وجود میں آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی گونج اس وقت نئی دہلی کے اعلیٰ ایوانوں میں گونج رہی ہے اور سیاست دانوں کی سیاست کو چیلنج کر رہی ہے۔ اس کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانی بے ضابطگیوں اور احتساب سے متعلق مسائل پر قومی سطح پر توجہ دلانا ضروری ہے۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے چھ جون کے احتجاج کے لیے جنتر منتر کا انتخاب کیا ہے، کیونکہ ان کے بقول یہ وہ مقام ہے جہاں سے اٹھنے والی آواز پورے ملک میں سنی جا سکتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles