
معروف ماہرِ تعلیم، سماجی کارکن اور ماحولیاتی تحفظ کے علمبردار سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان 5 جون تک مستعفی نہ ہوئے تو وہ 6 جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی خامیوں پر جوابدہی ناگزیر ہے۔
تعلیمی اصلاحات کے لیے معروف شخصیت اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے، بشرطیکہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان 5 جون تک اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دیں۔
یہ احتجاج نوجوانوں کی قیادت میں قائم ایک سوشل میڈیا تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کی جانب سے طلب کیا گیا ہے، جو تعلیمی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سونم وانگچک نے کہا کہ ان کی حمایت صرف حالیہ امتحانی تنازعات تک محدود نہیں بلکہ وہ تعلیمی اصلاحات کے نفاذ کے مجموعی طریقہ کار پر بھی سوالات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک میں شامل نوجوان نیٹ (NEET)، سی یو ای ٹی (CUET) اور سی بی ایس ای (CBSE) امتحانات سے متعلق مسائل اجاگر کر رہے ہیں، جو نظام میں موجود گہرے نقائص کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے حکومت کی نیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، ”میں حکومت کو نیت کے معاملے میں دس میں سے دس نمبر دوں گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ زمینی سطح پر عمل درآمد کتنا ہوتا ہے۔“
وانگچک نے کہا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک بھارت کے دیہی اور دور دراز علاقوں کے اسکولوں کی حالت ہی ملک کے مستقبل کا تعین کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کا تصور مثبت ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب ان منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے۔
احتجاج کی حمایت کے اعلان سے قبل وانگچک نے سی جے پی کے بانی ابھجیت ڈپکے سے تفصیلی گفتگو بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ یقین دہانی چاہتے تھے کہ یہ تحریک بھارتی نوجوانوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے اور اس میں کسی بیرونی قوت کا اثر و رسوخ شامل نہیں۔
ان کے مطابق وضاحت ملنے کے بعد وہ تحریک کے مقاصد سے مطمئن ہوئے اور احتجاج کی حمایت کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھجیت ڈپکے نے وانگچک کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تحریک کو مزید تقویت ملے گی اور 6 جون کا احتجاج طے شدہ منصوبے کے مطابق جنتر منتر پر منعقد ہوگا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس احتجاج میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، تعلیمی پالیسیوں اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے متعلق معاملات کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔
سونم وانگچک کون ہیں؟
59 سالہ سونم وانگچک بھارتی علاقے لداخ کے معروف انجینئر، ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن ہیں۔ انہیں بالی ووڈ فلم’’ 3 ایڈیٹ‘‘ میں عامر خان کے کردار ”فنسخ وانگڈو“ کے حقیقی محرک کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔
انہوں نے 1988 میں لداخ میں تعلیمی اصلاحات کے لیے (یا اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنت آف لداخ) نامی تنظیم قائم کی اور بعد ازاں ”آئس اسٹوپا“ منصوبے سمیت متعدد ماحول دوست اور تعلیمی منصوبوں کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی۔ انہیں ایشیا کے ممتاز اعزاز ریمن میگسیسے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔