فٹبال کا وہ ہونہار بچہ جس نے اپنے استاد کو ریٹائر ہونے پر مجبور کر دیا

ارجنٹائن کے شہر روساریو میں پیدا ہونے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کی زندگی لاکھوں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

میسی نے کم عمری میں ہی اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں سے سب کو متاثر کر دیا تھا۔ ان کے ابتدائی کوچ اینریکے ڈومنگیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں میسی جیسا باصلاحیت کھلاڑی نہیں دیکھا۔ ڈومنگیز کے مطابق میسی کی غیرمعمولی مہارت نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ بعد میں انہوں نے کوچنگ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

لیونل میسی کے بچپن کے کوچ اینریک ڈومنگیوز کی عمر اس وقت صرف پینتالیس برس تھی جب وہ روساریو میں بارسلونا کے اس مستقبل کے اسٹار کو تربیت دے رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میرے لیے یہ بچہ خدا کا ایک تحفہ تھا۔ ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا کہ جب آپ میسی کو میدان میں کھیلتے دیکھتے ہیں، تو کیا آپ کو فخر ہوتا ہے کہ آپ نے اسے یہ سب سکھایا؟

کوچ نے جواب دیا کہ سچ تو یہ ہے کہ میں نے اسے کچھ نہیں سکھایا، کیونکہ اسے سکھانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔ جو جادو وہ آج پینتیس چھتیس سال کی عمر میں دکھاتا ہے، وہ بارہ سال کی عمر میں بھی بالکل ویسا ہی کھیلتا تھا۔ بس اسی لیے میں نے سوچا کہ اب زندگی میں کسی اور کو کیا سکھانا اور میں نے کوچنگ ہی چھوڑ دی۔

میسی کا بچپن ارجنٹائن کے ایک عام سے شہر روساریو میں گزرا۔ ان کے بچپن کے دوست والٹر باریرا پرانی باتیں یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ دونوں اسکول جانے کے لیے ایک فوجی اڈے کی باڑ کاٹ کر شارٹ کٹ لیتے تھے۔ ایک دفعہ تو وہاں کے چوکیدار نے ان کے پیچھے دوڑ بھی لگا دی تھی۔

والٹر کہتے ہیں کہ ہم شرارتی ضرور تھے لیکن برے بچے نہیں تھے۔ والٹر نے مزید کہا کہ ہم نے بچپن میں رگبی، بیس بال اور دیگر کھیل بھی کھیلے لیکن میسی کا اصل نشانہ فٹ بال ہی تھا۔ والٹر باریرا کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ بہت آگے جائے گا، وہ فٹ بال کا بادشاہ تھا۔

میسی کے خاندان کے حالات کافی مشکل تھے۔ ان کے دوسرے کوچ ایڈریان کوریا بتاتے ہیں کہ میسی کے والد ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور اکثر کہتے تھے کہ ان کے پاس گاڑی میں پٹرول ڈالنے کے اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ میسی کو ٹریننگ پر لا سکیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ بچپن میں میسی کو ایک بیماری کا پتا چلا جس کی وجہ سے ان کا قد نہیں بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے ساتھ کے بچوں سے بہت چھوٹے اور کمزور نظر آتے تھے۔

ایڈریان کوریا کا کہنا تھا کہ لیو اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے چالیس سینٹی میٹر چھوٹے اور پندرہ کلو گرام ہلکے تھے، جو کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

ان حالات میں میسی کے خاندان نے ہسپانوی کلب بارسلونا کی اکیڈمی سے رابطہ کیا، جنہوں نے فوری طور پر میسی کو منتخب کر لیا اور ان کے علاج کا خرچہ اٹھانے کا وعدہ کیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

میسی 2000ء میں تیرہ سال کی عمر میں بارسلونا منتقل ہو گئے اور اس کے بعد سے وہ کبھی مستقل طور پر ارجنٹائن میں نہیں رہے۔ کوچ ایڈریان کہتے ہیں کہ میسی کا نشانہ بالکل پکا تھا، وہ ہر حال میں دنیا کا بہترین کھلاڑی بننا چاہتا تھا اور اس نے یہ کر دکھایا۔

میسی اب اپنے چھٹے ورلڈ کپ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اپنے ملک کو چار سال پہلے ورلڈ کپ جتا چکے ہیں۔

آج جس محلے میں میسی کا بچپن گزرا تھا، وہاں دنیا بھر سے لوگ ان کا پرانا گھر دیکھنے آتے ہیں۔ وہاں دیواروں پر میسی کی بڑی بڑی تصویریں بنی ہیں اور ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ کھلاڑی کسی دوسری دنیا کا لگتا ہے، لیکن ہے ہمارے ہی محلے کا۔

میسی کے سابق کوچز کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کا راز صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ ان کی غیرمعمولی محنت، لگن اور بہترین بننے کا عزم بھی تھا، جس نے انہیں فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles