فیفا ورلڈ کپ: امریکا میں ایرانی میچز کے لیے سیکیورٹی سخت، امیگریشن حکام کو دور رکھنے کا فیصلہ

لاس اینجلس میں فیفا ورلڈ کپ کے دوران امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے شہری امیگریشن قوانین کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ شائقین اور ملازمین کے خدشات دور کرنے کیلئے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ ایران کے میچز کے دوران موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اضافی سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔

لاس اینجلس کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لونا نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران شہر میں ہونے والے میچز اور متعلقہ تقریبات میں شہری امیگریشن قوانین کے نفاذ کیلئے آئی سی ای اہلکار کارروائیاں نہیں کریں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران رابرٹ لونا نے بتایا کہ چند ہفتے قبل ایسی اطلاعات اور افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ورلڈ کپ مقابلوں کے دوران آئی سی ای اہلکار موجود ہوں گے، جس پر انہوں نے خود محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے علاقائی سربراہ سے رابطہ کیا۔

ان کے مطابق وفاقی اداروں کے اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کیلئے موجود ہوں گے تاکہ تمام اسٹیڈیمز اور تقریبات کو محفوظ بنایا جا سکے، تاہم امیگریشن قوانین کے تحت گرفتاریوں یا کارروائیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

لاس اینجلس کا سوفائی اسٹیڈیم، جو ورلڈ کپ کے دوران ”لاس اینجلس اسٹیڈیم“ کہلائے گا، 12 جون کو امریکا اور پیراگوئے کے درمیان افتتاحی میچ کی میزبانی کرے گا۔ شہر میں مجموعی طور پر آٹھ ورلڈ کپ میچز کھیلے جائیں گے۔

گزشتہ برس لاس اینجلس میں آئی سی ای کی کارروائیوں کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ماہ اسٹیڈیم کے ملازمین نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر ورلڈ کپ کے دوران آئی سی ای اہلکار تعینات کیے گئے تو وہ ہڑتال پر جا سکتے ہیں۔

اسٹیڈیم کے ملازمین کا مؤقف تھا کہ آئی سی ای کی موجودگی ملازمین اور شائقین میں خوف کی فضا پیدا کرے گی۔ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اسٹیڈیم کے ملازم آئزک مارٹینز نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ مقابلوں میں آئی سی ای کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور کارکن خوف کے ماحول میں کام نہیں کرنا چاہتے۔

دوسری جانب لاس اینجلس دو ایسے گروپ میچز کی بھی میزبانی کرے گا جن میں ایرانی ٹیم شریک ہوگی۔ ایران 15 جون کو ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ لاس اینجلس میں کھیلے گا۔ یہ شہر ایران سے باہر ایرانی نژاد افراد کی سب سے بڑی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔

رابرٹ لونا نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے باعث ایرانی ٹیم کے میچز ایک مختلف نوعیت کی سکیورٹی صورتحال پیدا کرتے ہیں، اسی لیے ان مقابلوں کیلئے اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور ممکنہ احتجاج یا دیگر سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

حکام نے ورلڈ کپ کے دوران ڈرونز کے استعمال پر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیڈیمز کے اطراف عارضی فضائی پابندیاں نافذ ہوں گی اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرونز کو محفوظ انداز میں نیچے اتارنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔

ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرانڈی نے خبردار کیا کہ فضائی پابندیوں کی خلاف ورزی پر ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی اختیار کی جائے گی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل نگرانی کریں گے۔

لاس اینجلس کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ناتھن ہوک مین نے کہا کہ 11 جون سے 19 جولائی تک شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر معمولی موجودگی ہوگی اور اس عرصے میں جرائم پیشہ افراد کیلئے جرم کا ارتکاب کرنا انتہائی مہنگا ثابت ہوگا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles