
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق اہم نکات پر مذاکرات جاری ہیں جب کہ ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر تاحال مکمل اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی اس معاہدے کی توثیق کریں گے یا نہیں، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر فی الحال مکمل اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک چند اہم الفاظ اور نکات پر بار بار مشاورت کر رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے پر دستخط کریں گے یا نہیں۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایران کا جوہری پروگرام، انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور یورینیم افزودگی کا مستقبل سب سے حساس معاملات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو اب تک یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ایران مذاکرات میں نیک نیتی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور امید ہے کہ مزید پیش رفت کے بعد صدر ٹرمپ اس معاہدے کی منظوری دے سکتے ہیں۔ تاہم امریکی نائب صدر نے اس بات کی ضمانت دینے سے گریز کیا کہ دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے تک ضرور پہنچ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فریقین ایسے مرحلے کے قریب پہنچ سکتے ہیں جہاں بیٹھ کر باقی اختلافات حل کیے جا سکیں لیکن اس کے لیے مزید پیش رفت ضروری ہے۔
دوسری جانب جنگ کے بعد دوبارہ حملوں کے تبادلے کے باوجود جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، تاہم امریکا اپنے دفاع کے حق کو محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر دفاعی کارروائی کر سکتا ہے۔
سی این این کی صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاملات اکثر پیچیدہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایسے حالات میں مختصر کشیدگی یا جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔