گرین کارڈ کے خواہش مندوں کو بڑا جھٹکا: امریکا نے غیر ملکیوں کو وطن واپسی کا حکم دے دیا

امریکی محکمہ شہریت و ہجرت (یو ایس سی آئی ایس) نے ایک نئی پالیسی جاری کی ہے جس کے تحت امریکا میں عارضی طور پر موجود غیر ملکی افراد کو گرین کارڈ یعنی مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے سے پہلے اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا اور وہاں کے امریکی سفارت خانے سے درخواست دینا ہوگی۔

یہ اعلان جمعہ کے روز ایک پالیسی میمو کے ذریعے کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ امیگریشن افسران ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لیں گے اور صرف غیر معمولی حالات میں امریکا میں رہتے ہوئے ریلیف یا استثنا دیا جا سکے گا۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد امیگریشن نظام کو اس طرح چلانا ہے جیسے قانون میں اصل طور پر تصور کیا گیا تھا، اور ان کے مطابق اس سے نظام میں موجود خامیوں یا غلط استعمال کے امکانات کم ہوں گے۔

یو اسی سی آئی ایس کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی سے ادارے کے وسائل بھی بچیں گے اور دیگر کیسز کو زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹایا جا سکے گا۔ نئی ہدایت کے مطابق عارضی ویزا پر آنے والے افراد، جیسے طلبہ، عارضی ورکرز یا سیاح، اگر گرین کارڈ کے خواہشمند ہوں تو انہیں اپنے ملک جا کر ہی درخواست دینی ہوگی، سوائے ان صورتوں کے جنہیں غیر معمولی سمجھا جائے۔

یہ پالیسی ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں قانونی حیثیت رکھنے والے افراد، بشمول امریکی شہریوں کے شریک حیات، طلبہ، ورکرز اور پناہ گزین، ملک کے اندر رہتے ہوئے ہی مستقل رہائش کی درخواست دیتے رہے ہیں۔

امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپس نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایسے افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو انسانی اسمگلنگ کا شکار رہے ہوں، تشدد سے بچ کر آئے ہوں یا ایسے بچے ہوں جن کے لیے واپس جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کئی ممالک میں امریکی سفارت خانے بند ہیں یا وہاں ویزا کا عمل بہت سست ہے اور ویزا انٹرویو کے لیے سال بھر کا انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے خاندان مستقل طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو سکتے ہیں، اور لوگوں کے لیے واپس جا کر درخواست دینا مشکل یا ناممکن ہو سکتا ہے۔

پچھلے پچاس سال سے جاری پرانے قانون کے مطابق قانونی طور پر امریکا میں موجود افراد یہیں رہتے ہوئے اپنے اقامتی درجے میں تبدیلی کی درخواست دے سکتے تھے، جس میں امریکی شہریوں سے شادی کرنے والے افراد، طالب علم، اور مختلف ویزا ہولڈرز شامل تھے۔

امیگریشن ماہرین کے مطابق اس پالیسی سے خاندانوں کی جدائی اور غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔ کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ یہ اصول پہلے سے جاری درخواستوں پر بھی لاگو ہوگا یا نہیں، اور اس سے بہت سے لوگوں میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔

ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ افراد جنہیں معاشی یا قومی مفاد میں اہم سمجھا جائے گا، وہ امریکا میں رہتے ہوئے بھی درخواست دے سکیں گے۔

یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکا میں قانونی امیگریشن کے قوانین پہلے ہی سخت کیے جا رہے ہیں اور ویزوں کی پالیسیوں میں بھی مسلسل تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles