
دبئی میں ٹرانسپورٹ اور پارکنگ کے نظام میں بڑی تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے، حکومت نے پارکنگ اور ٹول سروسز پر نیا ٹیکس نافذ کرنے اور نقد ادائیگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یکم جون 2026 سے نافذ ہونے والی اس پالیسی کے تحت شہریوں کو اب مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقوں سے ادائیگی کرنی ہوگی جبکہ پارکنگ میٹرز پر نقد رقم کے ذریعے ادائیگی کا روایتی طریقہ کار بھی مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت ”پارکن“ نے اعلان کیا ہے کہ اس کا اطلاق تمام خدمات پر ہوگا، جن میں آن اسٹریٹ پارکنگ، آف اسٹریٹ پارکنگ، سیزونل پارکنگ کارڈز، اجازت نامے اور ریزرویشن سروسز شامل ہیں۔ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے ٹیکس قوانین اور حکومتی اداروں کی ہدایات کے مطابق کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ”سالک“ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ٹول فیس اور ٹیگ ایکٹیویشن چارجز پر بھی ویلیو ایڈڈ ٹیکس اسی تاریخ سے شامل ہوگا، اور یہ رقم فیڈرل ٹیکس اتھارٹی کو جمع کرائی جائے گی۔
مزید برآں، دبئی میں پارکنگ کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر کیش یا نقد ادائیگی کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ یکم جون سے میٹرز پر نقد ادائیگی قبول نہیں کی جائے گی، اور اس کے بجائے مکمل طور پر ڈیجیٹل اور کارڈ بیسڈ نظام اپنایا جائے گا۔
ڈرائیورز اب پارکنگ کی ادائیگی کے لیے مختلف ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر سکیں گے، جن میں نول کارڈ، پارکن ایپ، ایس ایم ایس سروس، دبئی ناؤ اور آر ٹیی اے کی موبائل ایپ شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ تبدیلیاں دبئی کے ”سمارٹ سٹی“ اور ”کیش لیس اکانومی“ وژن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ادائیگی کے نظام کو زیادہ تیز، شفاف اور ڈیجیٹل بنانا ہے۔ اس اقدام سے شہریوں کو زیادہ سہولت ملنے کے ساتھ ساتھ انتظامی نظام بھی بہتر ہوگا، تاہم گاڑی مالکان کو اب اپنے روزمرہ اخراجات میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے اضافے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔