
اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے دائر کی گئی آن لائن ہراسگی کی درخواست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نے دونوں فریقین کو طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی سے آن لائن موصول ہونے والی درخواست میں مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد این سی سی آئی اے لاہور نے ابتدائی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی آج دوپہر پیشی متوقع ہے، جہاں ابتدائی مرحلے میں کیس کا میرٹ پر جائزہ لیا جائے گا۔ چونکہ معاملہ آن لائن ہراسمنٹ سے متعلق ہے، اس لیے ڈیجیٹل شواہد، سوشل میڈیا ریکارڈ اور دیگر متعلقہ مواد کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
تفتشیی ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے دونوں فریقین کے بیانات قلمبند کرے گی اور دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں، اگر تحقیقات کے دوران زبانی یا آن لائن ہراسمنٹ کے الزامات ثابت ہوئے تو معاملہ باقاعدہ پولیس کیس کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کا دائرہ کار بھی طے کیا جائے گا، جبکہ شواہد کی بنیاد پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے دو روز قبل سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
اداکارہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک اسٹوری میں تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اس معاملے کی متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کو شکایات درج کروائیں لیکن مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث کارروائی نہیں ہوسکی۔
اداکارہ مومنہ اقبال کے مطابق انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کی گئی جب کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔
اداکارہ نے اعلیٰ حکام، اہم سرکاری دفاتر، نیوز چینلز اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی پوسٹ میں ٹیگ کیا تھا۔