ایرانی حکام نے باقر قالیباف کے مذاکراتی ٹیم سے الگ ہونے کی افواہیں بے بنیاد قرار دے دیں

ایرانی پارلیمنٹ کے میڈیا مرکز نے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ایران کی مذاکراتی ٹیم سے الگ ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم نیوز‘ کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے مواصلات، میڈیا اور ثقافتی امور مرکز کے سربراہ ایمان شمسائی نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ محمد باقر قالیباف نے ایران کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی چھوڑ دی ہے۔

ایمان شمسائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بعض حلقوں اور افراد کی جانب سے پھیلائی جانے والی یہ خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ افراد کی جانب سے یہ نیا دعویٰ کہ ڈاکٹر باقر قالیباف نے مذاکراتی ٹیم کی سربراہی چھوڑ دی ہے، مکمل طور پر جھوٹ اور کھلا فریب ہے۔

شمسائی کے مطابق محمد باقر قالیباف بدستور ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں اور ساتھ ہی چین سے متعلق امور کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ایک بار پھر واضح کرتا ہوں کہ ڈاکٹر قالیباف اب بھی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور صدر کی تجویز اور رہبرِ انقلاب کی منظوری سے انہیں چین سے متعلق امور کے لیے نظام کا خصوصی نمائندہ بھی مقرر کیا گیا ہے، جو تہران اور بیجنگ کے درمیان بڑھتے سفارتی اور اقتصادی روابط کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

محمد باقر قالیباف ایران کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران کے سفارتی اور مذاکراتی عمل سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں، جن کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے حکام نے وضاحتی بیان جاری کیا۔

محمد باقر قالیباف ایران کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور وہ اس وقت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ماضی میں تہران کے میئر اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ اہم عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles