
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق امیدیں ایک بار پھر بحال ہوگئی ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی روانی بحال ہوئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق مثبت بیانات کے بعد خطے کی صورتحال میں نرمی کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز دو چینی تیل بردار سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے، جو جنگی صورتحال کے دوران عالمی توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران مذاکرات میں “اچھی پوزیشن” میں ہے اور بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ایرانی قیادت کے مختلف دھڑوں کے باعث مذاکرات پیچیدہ مرحلے میں ہیں، مگر واشنگٹن اپنی “سرخ لکیریں” واضح کر رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی “بہت جلد” ختم ہو سکتی ہے۔ ان بیانات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ کروڈ آئل 88 سینٹس یا 0.8 فیصد کمی کے بعد 110.40 ڈالر فی بیرل پر آگیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 67 سینٹس یا 0.6 فیصد کمی کے بعد 103.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس امکان کو مدنظر رکھ رہے ہیں کہ اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو خطے میں سپلائی کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے، تاہم فوری طور پر قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان کم ہے کیونکہ جنگ کے بعد سپلائی مکمل طور پر بحال ہونے میں وقت لگے گا۔
اس سے قبل بھی دونوں بینچ مارک آئل کی قیمتوں میں تقریباً ایک ڈالر کی کمی دیکھی گئی تھی، جب مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق ابتدائی اشارے سامنے آئے تھے۔
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی ترسیل کا اہم راستہ ہے، وہاں کشیدگی میں کمی اور جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کا باعث بنی ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی قرار دی جا رہی ہے۔