پاکستانی، افغانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے بھارتی شہریت کا قانون تبدیل

بھارت کی وزارتِ داخلہ نے ملک کے شہریت کے قوانین میں ایک اہم ترمیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کے لیے بھارتی شہریت حاصل کرنے کے عمل میں اپنے پرانے یا موجودہ پاسپورٹ کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس نئی تبدیلی کا بنیادی مقصد کاغذی کارروائی کو زیادہ آسان بنانا اور شہریت کی درخواستوں کے طریقہ کار میں شفافیت اور وضاحت لانا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے بنیادی شہریت کے قوانین پہلی بار 25 فروری 2009 کو جاری کیے گئے تھے اور ان میں سب سے آخری ترمیم 11 مارچ 2024 کو کی گئی تھی، جس کے بعد اب یہ نیا قاعدہ لاگو کیا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، قوانین میں کی جانے والی اس حالیہ تبدیلی کے تحت شہریت کے رولز کے شیڈول ون سی میں ایک نئی شرط شامل کی گئی ہے۔

اس نئی شرط کے مطابق اب ہر درخواست گزار کے لیے یہ بتانا لازمی ہوگا کہ آیا ان کے پاس پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش کی حکومتوں کی طرف سے جاری کردہ کوئی بھی درست یا زائد المیعاد یعنی ایکسپائرڈ پاسپورٹ موجود ہے یا نہیں۔

ترمیم شدہ قانون کے تحت اب درخواست گزاروں کو یا تو یہ حلفیہ تصدیق کرنی ہوگی کہ ان کے پاس ایسا کوئی پاسپورٹ نہیں ہے، یا پھر پاسپورٹ ہونے کی صورت میں اس کی مکمل اور تفصیلی معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔

ان معلومات میں پاسپورٹ کا نمبر، اس کے جاری ہونے کی تاریخ، جاری ہونے والے شہر یا جگہ کا نام اور اس کے ختم ہونے کی تاریخ شامل ہیں۔

نئے قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جن درخواست گزاروں کے پاس یہ پاسپورٹ موجود ہوں گے، انہیں بھارتی شہریت کی درخواست منظور ہونے کے پندرہ دنوں کے اندر اندر اپنے پاسپورٹ متعلقہ پوسٹل حکام یعنی ڈاکخانے کے محکمے کے پاس جمع کروانے ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد ان تینوں ممالک سے آنے والے افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کو بہتر بنانا اور شہریت دینے کے پورے عمل کو مزید واضح اور منظم کرنا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام سے بچا جا سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles