‘امریکا سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات’: ایران نے آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے میکنزم بنا لیا

ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے حملے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت کے بغیر باضابطہ بات چیت دوبارہ شروع نہیں کی جائے گی، جبکہ دوسری جانب تہران نے آبنائے ہرمز پر بحری ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم متعارف کرانے کا بھی اعلان کردیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کی خواہش کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم امریکا کے حقیقی ارادوں پر اب بھی شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس بات کی پختہ ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے نہیں کیے جائیں گے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ماضی میں جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے دوران امریکا دو مرتبہ ایران پر حملے کر چکا ہے، جس کے باعث تہران کو واشنگٹن کی نیت پر تحفظات ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ اگر سنجیدہ اور بااعتماد ماحول فراہم کیا گیا تو ایران سفارتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ ہوگا۔

دوسری جانب ایران نے عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز پر ٹریفک کنٹرول کے لیے نیا میکنزم تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ نیا میکنزم جلد پیش کیا جائے گا، جس کے تحت ایک مخصوص بحری راستہ نام نہاد فریڈم پروجیکٹ آپریٹرز کے لیے بند کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام سے کمرشل جہازوں اور ایران کے دوست ممالک کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس بھی وصول کرے گا۔

ابراہیم عزیزی کے مطابق یہ اقدام خطے میں بحری نگرانی اور قومی سلامتی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles