
بحرِ اوقیانوس کا مشہور جزیرہ برمودا اپنے پراسرار واقعات اور ’برمودا ٹرائینگل‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ طویل عرصے سے ماہرینِ ارضیات کے لیے ایک بڑی پہیلی بنا ہوا تھا، جس کے سائنسی رازوں سے پردہ اٹھانا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔
سائنسدان حیران تھے کہ برمودا کے آتش فشاں تقریباً 3 کروڑ سال سے خاموش ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ جزیرہ اپنے آس پاس کے سمندری فرش سے تقریباً 1,600 فٹ کی غیر معمولی بلندی پر کیسے برقرار ہے؟ حال ہی میں امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔
یہ تحقیق زمین کی اندرونی ساخت اور برمودا جزیرے کے نیچے چھپے ایک ایسے ارضیاتی راز کو فاش کرتی ہے جس نے سائنسدانوں کو طویل عرصے سے الجھن میں ڈال رکھا تھا۔
کارنیگی سائنس کے ماہرِ زلزلہ ولیم فرئیزر اور ییل یونیورسٹی کے جیفری پارک کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ برمودا کے نیچے زمین کی ایک ایسی منفرد ساخت موجود ہے جو دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔ یہ تحقیق مشہور سائنسی جریدے ’جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز’ میں شائع ہوئی ہے۔
عام طور پر ’ہوائی‘ جیسے آتش فشانی جزیرے زمین کی گہرائی سے اٹھنے والے گرم اور پگھلے ہوئے چٹانی کالموں کی وجہ سے بنتے ہیں، جو سمندری فرش کو اوپر کی طرف دھکیلتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ آتش فشانی عمل رک جاتا ہے، تو وہ جزیرے دوبارہ نیچے بیٹھ جاتے ہیں، لیکن برمودا کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا اور وہ اب بھی اونچائی پر قائم ہے۔
اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے سائنسدانوں نے دنیا بھر میں آنے والے بڑے زلزلوں کی لہروں کا سہارا لیا۔ یہ لہریں جب زمین کے اندر سے گزرتی ہیں، تو اندرونی مادے کی کثافت کے حساب سے ان کی رفتار بدل جاتی ہے۔
برمودا میں نصب زلزلہ پیما مرکز کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے سائنسدانوں نے جزیرے کے نیچے تقریباً 20 میل گہرائی تک کا ایک اندرونی نقشہ تیار کیا۔
اس نقشے سے ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ جزیرے کی اوپری سطح کے بالکل نیچے 12 میل سے زیادہ موٹی چٹان کی ایک ایسی پرت موجود ہے جو اپنے آس پاس کی زمین کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ زمین کے نیچے پگھلی ہوئی گرم چٹانوں کے اوپر اٹھنے کے بجائے، یہ ہلکی چٹان ایک ’فلوٹنگ رافٹ‘ یعنی سمندری تختے کی طرح کام کر رہی ہے، جس نے برمودا اور اس کے سمندری فرش کو اوپر کی طرف اٹھا کر سنبھالا ہوا ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چٹان کی یہ موٹی پرت کروڑوں سال پہلے اس وقت بنی تھی جب برمودا میں آتش فشاں پھٹتے تھے اور کاربن سے بھرپور پگھلا ہوا مادہ زمین کی اوپری سطح کے نیچے جمع ہو کر ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ یہ مادہ شاید اس دور کا ہے جب دنیا کے تمام براعظم ایک ساتھ جڑے ہوئے تھے اور اسے ’پینجیا‘ کہا جاتا تھا۔
یہ ہلکی چٹانی تہہ ایک بہت بڑے ”کوشنز“ یا ”بیڑے“ کی طرح کام کر رہی ہے۔ یہ اپنے ہلکے پن اور اچھال کی قوت کی وجہ سے پورے برمودا جزیرے کو سمندر کے اوپر اٹھائے ہوئے ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پانی میں تھرماکول یا لکڑی کا بڑا تختہ تیرتا رہتا ہے۔
آسان الفاظ میں برمودا جزیرہ زمین کے نیچے کسی گرمی یا لاوے کے دباؤ کی وجہ سے اوپر نہیں ٹکا ہوا، بلکہ وہ اپنے نیچے موجود ایک بہت بڑی، ہلکی اور مضبوط چٹانی لائف جیکٹ کی وجہ سے کروڑوں سالوں سے سمندر کے اوپر سکون سے تیر رہا ہے اور ڈوبنے سے بچا ہوا ہے۔
اگر یہ تہہ نہ ہوتی، تو سمندری لہریں برمودا کے اوپری حصے کو کاٹ کر برابر کر دیتیں اور یہ جزیرہ پانی کے اندر چھپا ہوا ایک چپٹا پہاڑ بن جاتا، جسے ارضیات کی زبان میں ”گیوٹ“ یا سی ماؤنٹ کہتے ہیں۔ یعنی آج نقشے پر برمودا نام کا کوئی جزیرہ نہ ہوتا، بلکہ وہ بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں کہیں گم ایک پہاڑ ہوتا۔
دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ ہلکی چٹانی تہہ نہ ہوتی، تو برمودا کروڑوں سال پہلے ہی سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہو کر ایک گمنام پہاڑ بن چکا ہوتا۔ یہ تہہ ہی ہے جس نے اسے ایک ”خلائی پُل“ کی طرح پانی سے باہر سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔
تحقیق کے سربراہ ولیم فریزر کا کہنا ہے کہ برمودا زمین کے روایتی ماڈل پر پورا نہیں اترتا، جس کی وجہ سے یہ تحقیق کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔ اب وہ دنیا کے دیگر جزائر کے نیچے بھی ایسی ہی ساختیں تلاش کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا برمودا دنیا کا واحد منفرد جزیرہ ہے یا پھر زمین کے اندر ایسے مزید راز بھی چھپے ہوئے ہیں جو ہم اب تک نہیں جانتے۔