
مائیکروسافٹ کی اسرائیلی شاخ کے سربراہ ایلون ہائیمووچ نے اسرائیلی فوج کے ساتھ کاروباری تعلقات پر ہونے والی تحقیقات کے بعد عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
یہ پیش رفت اُن انکشافات کے بعد سامنے آئی جن میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کیلئے مائیکروسافٹ کی ٹیکنالوجی استعمال کی۔
برطانوی اخبار گارڈین، اسرائیلی فلسطینی جریدے +972 میگزین اور عبرانی زبان کے پلیٹ فارم لوکل کال کی مشترکہ تحقیقات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج کے خفیہ ادارے یونٹ 8200 نے مائیکروسافٹ کے “ایژور” کلاؤڈ پلیٹ فارم کو غزہ اور مغربی کنارے سے حاصل کی گئی لاکھوں فون کالز محفوظ کرنے کیلئے استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق یونٹ 8200 نے ایژور کی وسیع اسٹوریج اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کی مدد سے ایسا نگرانی نظام قائم کیا، جس کے ذریعے فلسطینی شہریوں کی روزانہ لاکھوں موبائل کالز جمع، سنی اور تجزیہ کی جاتی تھیں۔
ان انکشافات کے بعد مائیکروسافٹ نے گزشتہ سال اپنے اسرائیلی دفتر اور فوجی روابط کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات حال ہی میں مکمل ہوئی ہیں، تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں مائیکروسافٹ اسرائیل کے جنرل منیجر ایلون ہائیمووچ کی رخصتی کا اعلان کیا گیا، جبکہ کئی دیگر اعلیٰ منیجرز نے بھی اپنے عہدے چھوڑ دیے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’’گلوبز‘‘ کے مطابق کمپنی کے اندر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں سے متعلق شدید تنازع پیدا ہوا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں امریکی قانونی فرم ’’کوونگٹن اینڈ برلنگ‘‘ کے وکلا بھی شامل تھے، جنہوں نے تل ابیب کے قریب مائیکروسافٹ اسرائیل کے دفاتر کا دورہ کیا اور کمپنی حکام سے پوچھ گچھ کی۔
مائیکروسافٹ نے ابتدائی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یونٹ 8200 نے کمپنی کی سروس شرائط کی خلاف ورزی کی، کیونکہ کمپنی کی پالیسی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی۔
اس کے بعد مائیکروسافٹ نے یونٹ 8200 کی کلاؤڈ سروسز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات تک رسائی ختم کردی تھی۔
گارڈین کے مطابق دستیاب دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایلون ہائیمووچ نے 2021 میں مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا اور یونٹ 8200 کے اُس وقت کے سربراہ کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں اداروں کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس شراکت داری کے تحت ایژور کلاؤڈ میں حساس انٹیلی جنس مواد کیلئے الگ محفوظ حصہ تیار کیا گیا، جہاں بعد میں فلسطینیوں کی وسیع مواصلاتی معلومات منتقل کی گئیں۔
ایلون ہائیمووچ نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم ملازمین کو بھیجے گئے اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو “دنیا میں مائیکروسافٹ کی تیزی سے ترقی کرنے والی مارکیٹس میں شامل” کیا۔
دوسری جانب مائیکروسافٹ پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کرچکا ہے کہ کمپنی کی اعلیٰ قیادت، بشمول چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا، اس بات سے لاعلم تھی کہ یونٹ 8200 فلسطینیوں کی ریکارڈ شدہ کالز محفوظ کرنے کیلئے ایژور استعمال کررہا تھا۔
کمپنی کے نائب چیئرمین بریڈ اسمتھ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ ’’ہم ایسی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کرتے جو شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی میں مدد دے۔‘‘