
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ رہے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔ آخری دفعہ چین کا دورہ کرنے والے بھی امریکی صدر بھی ڈونلڈ ٹرمپ تھے جو 2017 میں چین گئے تھے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورۂ دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔
ٹرمپ بدھ کی شب بیجنگ پہنچیں گے جہاں دو روزہ قیام کے دوران وہ صدر شی جن پنگ سے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں ملاقات کریں گے۔ اس دوران وہ تاریخی مقام ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کریں گے جب کہ ان کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے ہمراہ سیاسی یا سرکاری وفد کے علاوہ معروف کاروباری افراد پر مشتمل تجارتی وفد بھی چین پہنچ رہا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود ہیں، جن کی سربراہی میں امریکی وفد چینی حکام کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سے متعلق اہم مذاکرات کرے گا۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے اعلان میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے وفد میں 17 بڑی امریکی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیوز شامل ہوں گے۔ یہ وفد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرے گا، جن میں ٹیکنالوجی، مالیات، ہوابازی، توانائی اور ادائیگیوں کے نظام سے وابستہ ادارے شامل ہیں۔
اس دورے میں شامل نمایاں شخصیات میں ایپل کے ٹم کک، ٹیسلا کے ایلون مسک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، بلیک راک کے لیری فنک، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ اور گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن اور میٹا کی صدر و نائب چیئر ڈینا پاول شامل ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سرمایہ کاری، توانائی، تائیوان اور عالمی سلامتی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے چین کو تخفیفِ اسلحہ کے نئے ممکنہ معاہدوں میں شامل کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث داخلی سطح پر عوامی مقبولیت میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
تجارت
الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا بنیادی ایجنڈا تجارت ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بیجنگ امریکی مصنوعات، بشمول بوئنگ طیارے، گوشت اور سویابین کی خریداری میں اضافہ کرے۔ دوسری جانب چین چاہتا ہے کہ امریکہ جدید ’چپس‘ اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے۔
صدر ٹرمپ کی آمد سے قبل ان کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا کے انچیون ہوائی اڈے پر چینی نائب وزیراعظم ہی لائفینگ کے ساتھ تین گھنٹے طویل ’غیر رسمی‘ مگر اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد گزشتہ سال دونوں معیشتوں کے درمیان ہونے والے نازک تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیرف ختم کیے تھے جب کہ صدر شی جن پنگ نے دفاعی اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے ناگزیر ’نایاب معدنیات‘ کی عالمی سپلائی بحال رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
ٹیکنالوجی اور نایاب معدنیات
دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ عروج پر ہے۔ امریکا نے حالیہ برسوں میں چین کو جدید سیمی کنڈکٹرز اور چِپ بنانے والے آلات کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد چین کی فوجی اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کی رفتار کو محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب چین نایاب معدنیات کی عالمی ریفائننگ کا تقریباً 90 فیصد کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ معدنیات سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں، دفاعی سازوسامان، اسمارٹ فونز اور جدید الیکٹرانکس کی تیاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
بیجنگ نے امریکی پابندیوں کے جواب میں متعدد اہم معدنیات کی برآمد پر سخت پالیسیاں نافذ کی ہیں، جس کے باعث امریکی آٹو موبائل اور ایرو اسپیس صنعتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
این ویڈیا ان کمپنیوں میں شامل ہے جو چین میں اپنے کاروباری مسائل حل کروانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کمپنی کو اپنی جدید ’ایچ 200‘ چِپس چین میں فروخت کرنے کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ بیجنگ سربراہی اجلاس میں چین امریکا سے ٹیکنالوجی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کرے گا۔ دوسری طرف واشنگٹن چین پر زور دے گا کہ وہ نایاب معدنیات اور اہم خام مال کی برآمدات دوبارہ بحال کرے تاکہ امریکی صنعتوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔
تائیوان تنازع
میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان کا معاملہ بھی اس دورے کے حساس ترین موضوعات میں شامل ہوگا۔
تائیوان کا معاملہ چین کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جب کہ امریکا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ کے ذریعے تائیوان کے تحفظ اور اس کے ساتھ تعلقات کو اپنے قانون کا حصہ بنایا ہوا ہے۔
چین تائیوان کو حالیہ برسوں میں 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی امریکا سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ مسئلہ طویل عرصے سے کشیدگی کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کی جیل میں قید میڈیا ٹائیکون اور جمہوریت نواز شخصیت ’جمی لائی‘ کا معاملہ بھی شی جن پنگ کے سامنے اٹھائیں گے۔ جمی لائی کو رواں برس بیجنگ کے قومی سلامتی قانون کے تحت سزا سنائی گئی تھی، جس پر مغربی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔
بیجنگ میں تائیوان امور کے دفتر نے بدھ کے روز بیان میں کہا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر چین کا مؤقف چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت اور جمی لائی سے متعلق چین کا موقف بدستور برقرار ہے۔
ایران جنگ
موجودہ حالات میں ایران جنگ کو اس سمٹ کا سب سے اہم پہلو قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز چین کے دورے سے قبل گفتگو میں کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران جنگ سے متعلق بات چیت ضرور کریں گے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ انہیں جنگ رکوانے کے لیے شی جن پنگ کی مدد کی ضرورت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن بیجنگ پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے کیوں کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ چین آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اسے محفوظ بنانے میں مدد کرے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگرچہ امریکا اور چین اسٹریٹجک حریف ہیں لیکن دونوں معاشی طور پر ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں۔ امریکا کو سستی مینوفیکچرنگ کے لیے چین کی ضرورت ہے، جب کہ چین کو امریکی مارکیٹ، ٹیکنالوجی اور ڈالر پر مبنی عالمی معیشت تک رسائی درکار ہے۔ یعنی واشنگٹن اقتصادی فائدے چاہتا ہے جبکہ بیجنگ پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے۔
چین نے ٹرمپ کی آمد سے قبل ہی واضح کیا ہے کہ تائیوان، انسانی حقوق اور داخلی معاملات چین کی ریڈ لائنز ہیں اور ان میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ایران جنگ نے امریکا میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ کیا ہے، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی برتری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ چین سے بڑی تجارتی معاہدے کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کی جاسکے۔