
سیاحتی بحری جہاز پر ہونے والی ہلاکتوں اور ارجنٹائن میں ہنٹا وائرس کے کیسز میں ہوشربا اضافے نے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ امریکا کے معروف طبی تحقیقی ادارے جانز ہاپکنز یونیورسٹی نے موسمیاتی تبدیلیوں اور وائرس کے تیزی سے بدلتے ہوئے پھیلاؤ کے سنگین خطرات پر اپنی تازہ رپورٹ جاری کردی ہے۔
امریکا کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ارجنٹائن سے اسپین جانے والے ڈچ بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس پر ہنٹا وائرس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے عالمی سطح پر طبی ماہرین کو چونکا دیا ہے۔ ماہرین اس واقعے کو محض ایک حادثہ نہیں بلکہ بین الاقوامی صحت کے لیے ایک نئی اور پیچیدہ لہر کا آغاز قرار دے رہے ہیں، جس کے تانے بانے تیزی سے بدلتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ کیسز کی وجہ ہنٹا وائرس کی قسم ’اینڈیز اسٹرین‘ ہے، جو براعظم امریکا میں پایا جاتا ہے جو نہ صرف چوہوں سے بلکہ قریبی انسانی رابطے کے ذریعے بھی ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔
عام طور پر یہ وائرس چوہوں کے فضلے یا تھوک سے آلودہ ہوا میں سانس لینے سے پھیلتا ہے، لیکن بحری جہاز جیسے ماحول میں اس کا پایا جانا ماہرین کے لیے حیران کن ہے کیونکہ یہ عام طور پر بحری سفر میں پائے جانے والے وائرسز سے بالکل مختلف ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ بحری جہاز جیسا بند ماحول، جہاں لوگ طویل وقت ایک دوسرے کے قریب گزارتے ہیں، اس قسم کے وائرس کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جہاز پر موجود دیگر مسافروں کی صحت کی نگرانی اور ان کے ٹیسٹ بھی بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
جانز ہاپکنز کے ماہرین کے مطابق اس قسم میں اموات کی شرح 35 فیصد تک ہو سکتی ہے اور فی الحال اس کا کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے، اس لیے بچاؤ ہی بہترین حل ہے۔
جانز ہاپکنز کے محققین کے مطابق ہلاک ہونے والے پہلے دو مسافر یعنی ڈچ جوڑا بحری جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ارجنٹائن میں سفر کر رہے تھے، جہاں یہ وائرس پہلے سے موجود ہے۔ چونکہ اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں، اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ وہ جہاز پر آنے سے پہلے ہی متاثر ہو چکے تھے۔
اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور سرکاری حکام اس وقت ’کنٹیکٹ ٹریسنگ‘ کے ذریعے ان تمام افراد کا سراغ لگا رہے ہیں جنہوں نے متاثرہ مسافروں کے ساتھ سفر کیا۔ جہاز پر موجود مسافروں کو اسپین کے شہر ٹینریف میں اتارنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جہاں مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ کیا جائے گا جبکہ دیگر کو سخت نگرانی میں گھر بھیجا جائے گا۔ ماہرین اب وائرس کی جینیاتی ترتیب پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس کے پھیلاؤ کے اصل راستوں کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں اس تباہی کی اصل محرک ہیں۔ شدید بارشوں اور غیر معمولی گرمی نے ان چوہوں کی افزائشِ نسل کو ان علاقوں تک پھیلا دیا ہے جہاں پہلے ان کا وجود نہیں تھا۔ جنگلات کی کٹائی اور انسانی مداخلت نے ان جانوروں اور انسانوں کے درمیان فاصلہ کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وائرس اب دیہی علاقوں سے نکل کر سیاحتی مراکز اور بین الاقوامی گزرگاہوں تک پہنچ رہا ہے۔
حالیہ رپورٹ اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ ارجنٹائن کی وزارتِ صحت اب ان تمام راستوں کا سراغ لگا رہی ہے جہاں سے متاثرہ سیاح گزرے تھے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا وائرس نے اپنی ساخت میں کوئی ایسی تبدیلی کی ہے جس سے یہ پہلے سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اس صورتِ حال پر نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ علاقائی بیماری کسی عالمی وبا کی شکل اختیار نہ کر لے۔