ٹرمپ کی آمد سے قبل عباس عراقچی کا دورۂ چین: بیجنگ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران سے ناراض؟

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز کے بعد اپنے پہلے دورہ چین پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ اہم ملاقاتیں جاری ہیں۔ قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کا کہنا ہے کہ اس دورے کے ایجنڈے میں دو اہم ترین نکات شامل ہیں جن میں خطے میں موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا سرِفہرست ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے جہاں ایک طرف ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی پر سخت تنقید کی ہے، وہیں بیجنگ اب آبنائے ہرمز کی بندش میں ایران کے کردار پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ تہران اس دورے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے پر راضی ہو جاتا ہے تو اسے چین کی جانب سے کس قسم کی حمایت حاصل ہوگی، خاص طور پر اقوام متحدہ میں نئی پابندیوں کو روکنے کے لیے چین کا کردار کیا ہوگا۔

اس دورے کی ٹائمنگ کو بین الاقوامی سیاست میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ایرانی وزیر خارجہ ایک ایسے وقت میں بیجنگ پہنچے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جلد چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔

ایران اور چین دونوں ہی ٹرمپ اور چینی قیادت کی ممکنہ ملاقات کے نتائج کے حوالے سے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ مسلسل بیجنگ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کرے، جبکہ تہران یہ دیکھ رہا ہے کہ کیا چین امریکا کو خوش کرنے کے لیے کوئی رعایت دینے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب چین ایران سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ ٹرمپ کے دورے سے قبل کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے حالات مزید بگڑ جائیں۔

بیجنگ میں موجود سنگھوا یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹیجی کی محقق جوڈی وین نے اس دورے کو ایک منفرد صورتحال قرار دیا ہے۔

انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ عباس عراقچی کا یہ دورہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران چین کے ساتھ اسٹریٹجک رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

جوڈی وین نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کے دوران بین الاقوامی امور میں ایران کے لیے مزید سفارتی کوششیں یا گنجائش تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور چین اپنی پوری کوشش کرے گا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے تاکہ آبنائے ہرمز پہلے کی طرح کھل سکے۔

چین اور ایران کے تعلقات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کی خام تیل کی فروخت کا بڑا خریدار بھی ہے، جس نے تہران کی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جنگ سے پہلے چین اپنی سمندری ضرورت کا تیرہ فیصد خام تیل ایران سے رعایتی قیمت پر حاصل کرتا تھا۔ بیجنگ ایران کو مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف ایک اہم قوت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کی بقا کا حامی ہے۔

سن 2021 میں دونوں ممالک نے پچیس سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جبکہ ایران اپنے تیل کے لین دین میں چینی کرنسی یوآن کے استعمال کو فروغ دے کر چین کے معاشی مفادات کا تحفظ بھی کر رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles