اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کی لانچنگ، شہری ایلون مسک کے خلاف عدالت پہنچ گئے

امریکا کی ریاست ٹیکساس میں 70 سے زائد رہائشیوں نے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ ان شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے اسٹارشپ راکٹ کے تجرباتی لانچز اور لینڈنگ کے دوران پیدا ہونے والی شدید آواز اور زمین میں ہونے والی وائبریشنز سے ان کے گھروں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ مقدمہ جمعرات کے روز امریکی شہر براؤنز وِل کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپریل 2023 سے اکتوبر 2025 کے درمیان کیے گئے 11 تجرباتی راکٹ پروازوں کے دوران قریبی علاقوں میں غیر معمولی شور، جھٹکے اور سونک بومز پیدا ہوئے، جن کے باعث گھروں کی ساخت متاثر ہوئی۔

مدعیان کے مطابق، کمپنی کی جانب سے کیے گئے اسٹارشپ ٹیسٹ کے دوران اردگرد کے علاقوں کو بار بار شدید صوتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال معمول سے کہیں زیادہ خطرناک تھی اور اس کے اثرات کو پہلے سے مناسب طور پر نہیں جانچا گیا۔

یہ تمام رہائشی کیمرون کاؤنٹی میں واقع اس علاقے کے قریب رہتے ہیں جہاں اسپیس ایکس نے اپنا بڑا راکٹ مرکز قائم کیا ہے۔ کمپنی نے اس ساحلی مقام کو کئی سالوں میں ایک بڑے صنعتی کمپلیکس میں تبدیل کیا ہے، جسے ”اسٹار بیس“ کہا جاتا ہے اور جہاں بڑے پیمانے پر راکٹ تیار کیے جاتے ہیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس نے اپنے راکٹوں کی جانچ اور پروازوں کے دوران ارد گرد کے علاقوں کو غیر معمولی صوتی توانائی کا نشانہ بنایا ہے جس میں کان پھاڑ دینے والا شور اور سونک بوم شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹار شپ راکٹ 16 ملین پاؤنڈ سے زائد کا دباؤ یا تھرسٹ پیدا کرتا ہے جو ناسا کے جدید ترین سسٹم سے بھی تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ شہریوں کے وکلاء کے مطابق اتنی بڑی مقدار میں توانائی کا اخراج قریبی رہائشی ڈھانچوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

اسپیس ایکس نے گزشتہ کئی سالوں کے دوران جنوبی ٹیکساس کے اس ساحلی مقام کو ایک وسیع صنعتی کمپلیکس میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بڑے پیمانے پر راکٹوں کی تیاری اور آزمائش کی جاتی ہے۔ اس وقت کمپنی کی مجموعی مالیت پونے دو ٹریلین ڈالر کے قریب ہے اور وہ اسٹاک مارکیٹ میں اپنے شیئرز کی فروخت کی تیاریاں بھی کر رہی ہے۔

شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسپیس ایکس نے راکٹ پروازوں کے قریبی رہائشی علاقوں پر اثرات کا مناسب جائزہ نہیں لیا اور ممکنہ نقصان کے خدشات کے باوجود لانچز جاری رکھے۔ مدعیان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمپنی کو ان خطرات کا علم تھا، لیکن اس نے مبینہ طور پر دوسروں کی حفاظت اور حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے منصوبے جاری رکھے۔

دوسری جانب، اسپیس ایکس کی طرف سے اس مقدمے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ شہریوں کے وکلا نے بھی ابتدائی طور پر میڈیا سے بات نہیں کی۔

یہ قانونی جنگ ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب اسپیس ایکس اپنے مکمل طور پر دوبارہ استعمال ہونے والے خلائی نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے کوشاں ہے۔

فی الحال عدالت میں اس معاملے کی سماعت کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے نتائج مستقبل میں خلائی صنعت اور مقامی آبادی کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles