
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، اکتیس سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
حکام کے مطابق اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔
کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھا۔
اس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے بتایا کہ ملزم نے ہوٹل میں سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کے دوران گولیاں چلائیں جس سے ایک ایجنٹ زخمی ہوا، تاہم ملزم کو فوری طور پر قابو کر لیا گیا۔
ٹوڈ بلانچ کا کہنا تھا کہ ہماری ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم کا ہدف انتظامیہ کے اراکین تھے اور وہ فی الحال حکام کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔
ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔
وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے۔
ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔
ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔
اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہے۔
ملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔