پاکستان کا دورہ اچھا رہا، امریکا کی سفارتی سنجیدگی دیکھنا باقی ہے: ایرانی وزیر خارجہ


ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستانی قیادت کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد کے دورے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے دورے کو ’انتہائی نتیجہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہم خطے میں امن کے لیے پاکستان کے تعاون اور برادرانہ کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اپنا قابلِ عمل فریم ورک شیئر کر دیا ہے، تاہم اب یہ دیکھنا ہے کہ امریکا سفارت کاری میں کتنا سنجیدہ ہے۔

عباس عراقچی ہفتے کی شب پاکستان پہنچے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور حالیہ جنگ بندی کی صورتِ حال پر تہران کا مؤقف پیش کیا۔ اس ملاقات میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہفتے کے روز ہونے والی اس ملاقات میں عباس عراقچی کے ساتھ ایرانی وفد بھی شریک تھا جب کہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اس ملاقات میں شرکت کی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وفد سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ موجودہ علاقائی صورت حال پر انتہائی خوشگوار تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا‘۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس اعلیٰ سطح ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون، اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کے ساتھ جامع تعلقات کی مضبوطی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے ملاقات میں اس مؤقف کو دہرایا کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کا ایک خصوصی مقام ہے اور تہران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا عزم رکھتا ہے۔

عباس عراقچی نے جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں، جنگ بندی میں سہولت کاری اور اسلام آباد میں اہم مذاکرات کی میزبانی پر حکومتِ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ہمراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں ایرانی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی شریک ہوئے۔
اس ملاقات میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک تھے۔

پاکستان آمد سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ عباس عراقچی کے دورے کا مقصد پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرنا ہے جس میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی اور خطے میں امن کی بحالی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں ایران اور امریکا کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے اور تہران اپنے خدشات پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عین وقت پر اپنے مذاکراتی وفد کو پاکستان کے دورے سے روک دیا ہے۔
ہفتے کے روز ’فاکس نیوز‘ کی صحافی عائشہ حسنی سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جارہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں امریکا کا پلڑا بھاری ہے، اس لیے امریکی وفد کا 18 گھنٹے کی طویل مسافت طے کر کے پاکستان جانا سود مند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی جب چاہیں ہمیں کال کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی تھی کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جائیں گے، تاہم صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد اب فریقین کے مذاکرات کی میز پر واپسی کی امیدیں فی الحال معدوم ہوگئی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles