جنگ بندی کی ڈیڈ لائن کی خبریں مسترد؛ امریکا شرائط میں نرمی نہیں کرے گا: ترجمان وائٹ ہاؤس

امریکی صدر کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے اور امریکا اپنی شرائط میں کسی قسم کی نرمی نہیں کرے گا۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ایران کو لازمی طور پر اپنی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنا ہوگا۔

ترجمان نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ جنگ بندی کے لیے تین سے پانچ روز کی کوئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تعین خود کمانڈر ان چیف کریں گے اور صدر ٹرمپ اس وقت تک عارضی جنگ بندی برقرار رکھ سکتے ہیں جب تک ایران کی قیادت امریکی تجاویز کا کوئی متفقہ جواب نہیں دے دیتی۔

کیرولائن لیویٹ نے مزید کہا کہ معاشی دباؤ کی وجہ سے ہی ایران مذاکرات کی طرف واپس آ رہا ہے اور آپریشن ایپک فیوری کامیابی سے جاری ہے۔

دوسری جانب ایران کی قیادت نے امریکی موقف پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیز فائر کا مطلب تب سمجھ آتا ہے جب ناکہ بندی کر کے اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور دنیا کی معیشت کو یرغمال نہ بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پامالی کے ہوتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کو جنگ سے اپنے مقاصد حاصل نہیں ہوئے اور نہ ہی دھونس دھمکیوں سے وہ ہمیں جھکا سکتے ہیں، ایرانیوں کے حقوق تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔

اسی طرح ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے لیکن عدم اعتماد، محاصرہ اور دھمکیاں اس راہ میں اصل رکاوٹ ہیں، دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کے عمل اور دعوؤں میں کتنا تضاد ہے۔

اس کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو مذاکرات کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بریک تھرو کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگلے 36 سے 72 گھنٹے بہت اہم ہیں، تاہم انہوں نے اپنی فوج کو ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایک مشاورتی اجلاس میں بھی بدلتی ہوئی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کر کے خطے میں امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنا دفاع کرنا اچھی طرح جانتا ہے، لیکن پاکستانی کوششوں نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles