جنگ بندی میں توسیع کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز، ایرانی سفیر کی وزیراعظم سے اہم ملاقات


اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں جہاں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر نے اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے وفود جنہیں مذاکرات کے لیے پاکستان آنا تھا، تاحال نہیں پہنچ سکے۔

گزشتہ روز واشنگٹن میں ہونے والی ایک اہم بیٹھک میں صدر ٹرمپ نے اپنی دفاعی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی، کیونکہ جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی تھی اور نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستان روانگی کے لیے تیار کھڑا تھا۔
امریکی انتظامیہ کو اس وقت شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کی جانب سے خاموشی برقرار رہی اور مذاکرات کے لیے بھیجے گئے بنیادی نکات پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
امریکی حکام نے پاکستان کے اعلیٰ ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی رابطہ کیا تاکہ نائب صدر کی روانگی سے قبل ایرانیوں کا کوئی ردعمل حاصل کیا جا سکے، لیکن کافی انتظار کے بعد بھی کوئی جواب نہ آیا۔

امریکی مشیروں کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ ایران میں اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا کہ یورینیم کی افزودگی اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں۔

اس پیچیدہ صورتحال میں صدر ٹرمپ نے حملے دوبارہ شروع کرنے کے بجائے جنگ بندی میں توسیع کر دی تاکہ سفارتی راستہ کھلا رہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کے بیانات میں سختی نظر آتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی بڑھا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایک بہترین معاہدہ طے پا جائے گا، کیونکہ ان کے بقول ایران کی فوجی طاقت کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔
اب تمام نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles