ایران جانے والے 28 جہاز واپس موڑ دیے گئے: امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکا بندی کے دوران 28 جہازوں کو واپس پلٹنے یا اپنی بندرگاہوں کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا گیا ہے، تاہم تہران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بعض جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی سے گزر چکے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے 28 بحری جہازوں کو ناکا بندی کے آغاز سے اب تک واپس مڑنے یا اپنی بندرگاہوں کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بعض بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہے ہیں، جسے تہران نے امریکی ناکا بندی کی ناکامی قرار دیا ہے۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ دباؤ اور دھمکی کے ماحول میں کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے، جس کے باعث اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہی بحری ناکا بندی اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات میں ایران کی شرکت کے حوالے سے ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دباؤ اور دھمکی کے ماحول میں کسی قسم کی بات چیت نہیں کریں گے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت منگل کے روز بھی تقریباً معطل رہی اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف چند بحری جہاز ہی اس راستے سے گزر سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر پابندی کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہرمز پر اپنی پابندیاں سخت کر دی ہیں، جس کے باعث صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کئی بحری جہاز اور ہزاروں ملاح خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے سربراہ نے اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے خبردار کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث سمندری ٹریفک میں شدید کمی آئی ہے، جب کہ پہلے روزانہ بڑی تعداد میں جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles