ایران کے مذاکرات سے انکار کے بعد پاکستان کی کوششیں تیز، وزیرِ داخلہ کی اہم امور پر بریفنگ


اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد جاری ہے جس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران اور امریکی سفیروں سے الگ الگ ملاقاتوں سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے، اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو کیسے آگے بڑھایا جائے اور مذاکراتی عمل کو کس طرح کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ داخلہ نے اجلاس کے شرکا کو امریکی اور ایرانی سفیروں سے ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق آگاہ کیا، اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی شرکت یقینی بنانے کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مجوزہ مذاکراتی وفود کی سیکیورٹی کے انتظامات پر گفتگو ہوئی۔ ایرانی سفیر نے کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، جبکہ امریکی سفیر نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔

محسن نقوی نے کہا کہ تنازع کا دیرپا حل ہی خطے میں امن و استحکام کی ضمانت ہے، اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی وفود کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطے کی خبر دی۔ رائٹرزکے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جس پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جب کہ بیس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے دو بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی سی -17 گلوب ماسٹر طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا ہے، جس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ امریکی وفد کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی ٹیم لے کر پہنچا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی ختم ہونے میں دو دن باقی ہیں، تاہم امریکی نیوی نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ ایک بڑے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، جس پر سوالات کھڑے ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی تفصیلات بھی بتائیں، کہا کہ امریکی نیوی نے ایرانی جہاز پر گائیڈڈ میزائل فائر کیا جس سے جہاز کے انجن روم میں سوراخ ہو گیا۔ صدرٹرمپ کے مطابق توسکا نامی اس جہاز نے امریکی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ جہاز امریکی نیوی کے قبضے میں ہے۔
اس صورتِ حال کے بعد ایران نے مذاکراتی ٹیم کو بھیجنے سے انکار کردیا، پیر کو ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تہران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles