مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافہ

ایشیا میں ابتدائی تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 6.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 88 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے امن مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان میں مذاکرات کے لیے نمائندے بھیجنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی امریکا نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے واشنگٹن کی مجوزہ شرائط قبول نہ کیں تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایک ایرانی شہری کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی تھی، جس سے اسٹاک مارکیٹس میں بہتری اور تیل کی قیمتوں میں استحکام آیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں وہ اثرات ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 سے 72 گھنٹے انتہائی اہم ہوں گے، خاص طور پر جنگ بندی کی ڈیڈ لائن کے پیش نظر، جہاں سرمایہ کار کسی سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صورتحال صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں، بلکہ ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی ایسے عوامل ہیں جو غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles