امریکی وفد کی آج پاکستان آمد متوقع، ایران کی ٹرمپ کو جوابی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہنگامی اجلاس کے بعد ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس بار معاہدہ نہ ہو سکا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا پہلے ہی ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے اور تہران اب مزید دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں۔

صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کا راستہ بھی کھلا رکھا اور اعلان کیا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا، جہاں منگل اور بدھ کو مذاکرات متوقع ہیں۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو وہ خود بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کو امریکی محاصرے کے باعث اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

دوسری جانب دی امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے کے لیے جدید انڈر واٹر ڈرونز اور خصوصی مشینری کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

دوسری طرف ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی بحریہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے لیے مکمل تیار ہے اور دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کے دفاعی فیصلوں کا تعین کرے۔

وہیں ایرانی فوج کے سپاہ سالار امیر حاتمی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی افواج ہر وقت تیار ہیں اور آخری دم تک ملک کا دفاع کریں گی۔ ایرانی خفیہ اداروں نے کرمن سے امریکا اور اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی کرنے والے 51 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اُدھر اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے فی الحال مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کے مطالبات غیر معمولی حد تک سخت ہیں جبکہ اس کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی محاصرہ سیز فائر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے باعث مذاکرات کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ اس کے نتائج خطے کے امن یا ممکنہ جنگ کا تعین کریں گے۔

ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہوئی تو جنگ کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles