ایرانی بحری جہاز پر قبضے کی قانونی حیثیت: امریکا کن قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لے رہا ہے؟

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈونلڈ روتھ ویل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی افواج کی جانب سے ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ بحری جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر فائرنگ اور اسے قبضے میں لینے کی قانونی حیثیت کا دارومدار اس مقام پر ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

پروفیسر ڈونلڈ روتھ ویل نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ خلیج عمان میں پیش آیا ہے جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے باہر کا علاقہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ جہاز ایرانی ساحل سے کتنا قریب تھا؟ کیونکہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ توسکا ایک ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

پروفیسر روتھ ویل کے مطابق اگر یہ جہاز ایرانی سمندری حدود کے اندر تھا تو امریکا کے اس اقدام کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا اس قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے کسی قانونی چال کا سہارا لے سکتا ہے۔

پروفیسر روتھ ویل کا کہنا تھا کہ امریکا شاید اس کارروائی کو ناکہ بندی کے بجائے اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کی ایک کوشش کے طور پر پیش کرے۔

ان کے بقول یہ ممکن ہے کہ امریکا یہ کہے کہ وہ دراصل جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کر رہا بلکہ صرف امریکی قوانین کی پاسداری کر رہا ہے تاکہ پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی جہازوں کو روکا جا سکے۔

قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا کی جانب سے خلیج عمان میں پابندیوں کے نفاذ کی یہ کوشش ایک نئی قانونی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

ڈونلڈ روتھ ویل نے مزید واضح کیا کہ یقینی طور پر ایسے ایرانی جہاز موجود ہیں جن پر پابندیاں عائد ہیں، لیکن اگر امریکا اب اس کارروائی کو ناکہ بندی کے بجائے پابندیوں کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ ایک قانونی چال بازی ہو سکتی ہے۔

اس طرح کی دلیل دے کر امریکا یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گا کہ اس کا مقصد جنگ کو دوبارہ چھیڑنا نہیں بلکہ صرف اپنے قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے۔

اس صورتحال نے ماہرین اور عوام میں یہ تشویش پیدا کر دی ہے کہ کیا بین الاقوامی قوانین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اگر مقام کے حوالے سے حقائق واضح نہ ہوئے تو امریکا کے اس اقدام کو سمندری قوانین کی خلاف ورزی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

فی الحال عالمی برادری کی نظریں اس مقام کی درست نشاندہی پر لگی ہیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کیونکہ وہی فیصلہ کرے گا کہ امریکی کارروائی دفاعی تھی یا جارحانہ۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles