
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ کمی آبنائے ہرمز کھلنے سے متعلق خبروں اور سپلائی خدشات میں کمی کے باعث سامنے آئی۔
بین الاقوامی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) دونوں میں 10 فیصد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت نے عالمی منڈی میں اس تاثر کو مضبوط کیا کہ توانائی کی سپلائی پر جاری شدید دباؤ میں کمی آ سکتی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے فوری ردعمل دیا۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ تمام پیش رفت مارکیٹ ری ایکشن اور ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر ہے اور صورتِ حال کے مزید واضح ہونے تک توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شکریہ کی پوسٹ کردی۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے یہ اعلان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے، جسے عالمی تجارت اور تیل کی بلا تعطل ترسیل کے حوالے سے انتہائی مثبت اور اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لبنان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدرٹرمپ کی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔