پیک آورز میں گیس سے بجلی پیدا نہیں کرسکتے: وزیر توانائی اویس لغاری


وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہمیشہ کے لیے اندھیروں سے نکال دیا، پیک آورز میں گیس سے بجلی پیدا نہیں کرسکتے، آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ہمیں گیس نہیں مل رہی دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان کی حالت بہتر ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ عوام کے سامنے لوڈشیڈنگ سے متعلق حقائق رکھنا چاہتا ہوں، پیک آورز میں ہونے والی لوڈشیڈنگ پر معذرت خواہ ہوں جب کہ موجودہ صورت حال خطے کے حالات اور توانائی وسائل میں کمی کے باعث درپیش ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے اندھیروں سے نکالا، تاہم اس وقت خطے کی صورت حال کے باعث توانائی کے شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی صورت حال بہتر ہے۔

اویس لغاری کا مزید کہنا تھا کہ پیک آورز میں گیس سے بجلی کی پیداوار ممکن نہیں جب کہ ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کے باعث پن بجلی کی پیداوار 1676 میگاواٹ تک محدود ہو گئی ہے اور اس شعبے میں 1530 میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دن کے اوقات میں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، تاہم ضرورت کے مطابق لوڈشیڈنگ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے، جس کا اطلاق دیہی و شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے پر بھی ہو رہا ہے۔
وزیر توانائی کے مطابق اپریل کے پہلے 15 دنوں میں یومیہ بجلی کی طلب 15 سے 20 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہی جب کہ یکم اپریل سے درآمدی گیس بند ہونے کے باعث بھی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

سردار اویس لغاری نے مزید کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں ایل این جی پلانٹس سے تقریباً 3 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی، جو رواں سال کم ہو کر 1671 میگاواٹ رہ گئی ہے، لوڈشیڈنگ کو ضرورت کے حساب سے بڑھانا پڑتا ہے، دیہی، شہری علاقوں سمیت صنعتی شعبے میں بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جب کہ گزشتہ دو سال کے دوران بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی تاہم بجلی کی طلب میں اضافہ قیمتوں میں کمی کے باعث ہوا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles