
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو خط لکھا تھا جس میں ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر چین نے یقین دہائی کرائی کہ وہ ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا اور بعد میں سوشل میڈیا پر بیان میں بھی دہرایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس پیش رفت کو امریکا اور چین کے درمیان بہتر تعلقات کی علامت قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کے امریکی فیصلے پر بہت خوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں کیا جا رہا ہے، کیوں کہ یہ اہم سمندری راستہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ آئندہ دورے کے دوران ان سے ملاقات کے خواہاں ہیں اور توقع ہے کہ چین میں ان کا پُرتپاک استقبال کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی عسکری صلاحیت سب سے اعلیٰ ہے اور ضرورت پڑی تو ہم جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو خط لکھ کر ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شی جن پنگ نے ان کے خط کے جواب میں یقین دہائی کرائی کہ چین ایران کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔
تاہم امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ خط کب لکھا تھا اور انہیں جواب کب اور کس طرح موصول ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہ وہ گزشتہ ہفتے پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ جو ملک ایران کو ہتھیار فراہم کرے گا ان پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران جنگ اور وینزویلا کی صورت حال کے باعث عالمی تیل منڈی پر اثرات آئندہ ماہ شی جن پنگ کے ساتھ متوقع ملاقات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ چین کو تیل کی ضرورت ہے جب کہ امریکا اس حوالے سے خود کفیل ہے، اس لیے دونوں ممالک کے مفادات مختلف ہیں۔
انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ خاتمے کے قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو دوبارہ کھڑا ہونے میں 20 سال لگ سکتے ہیں، اسی لیے وہ معاہدے کے لیے بے تاب ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر آج امریکا فوجی کارروائیاں روک دے تو ایران کو دوبارہ کھڑا ہونے میں 20 سال لگ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت کی شدید خواہش ہے کہ کوئی معاہدہ ہوجائے، آنے والے دنوں میں صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے چینی سے متعلق سوال پر کہا کہ تیل کی قیمتیں رسد میں رکاوٹ کی وجہ سے بڑھی ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آئے گی اور اس کے اثرات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے کے انعقاد کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس سے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایرانی نمائندوں کے ساتھ بیٹھک کی، جو بے نتیجہ ثابت ہوئے تھے۔