پاکستان کی ایران اور امریکا کو مذاکرات کے دوسرے دور کی پیشکش، معاملات منطقی نتیجے تک پہنچنے کا امکان


پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے اور پاکستان اس میں ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور وہ ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔
اس عہدیدار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ ہے اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

اگلے دور کے لیے جمعرات کا دن اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اس بار بھی اسلام آباد کا نام میزبانی کے لیے سرفہرست ہے، تاہم جنیوا کو بھی ایک ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ دونوں فریقین اس وقت آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ چھ ہفتوں سے جاری اس جنگ کو ختم کیا جا سکے۔
دنیا بھر کی نظریں اب دوبارہ پاکستان کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ کیا اسلام آباد کی یہ کوشش خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles