ایران نے بھارتی آئل ٹینکرز سے ٹول وصولی کی خبروں کو مسترد کردیا

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارتی آئل ٹینکرز سے ٹول وصول کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نئی دہلی میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتح علی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے حوالے سے بھارت کے ساتھ رابطے میں ہے اور نئی دہلی کی مدد کے لیے تیار ہے۔

ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارتی ٹینکرز نے ایران کو کسی قسم کا ٹول ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بھارتی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ اور ہموار آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ مشکل صورت حال میں ایران اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مفادات اور مشترکہ مستقبل رکھتے ہیں۔

محمد فتح علی کے مطابق تہران بھارت کے ساتھ تعاون کو اہم سمجھتا ہے اور خطے کی موجودہ صورت حال کے باوجود باہمی تعلقات کو مضبوط رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارتی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جس سے بڑی مقدار میں تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والےجہازوں پر ایرانی کرنسی میں فیس کی تجویز دی ہے۔ نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں اور دشمنی پر مبنی طرز عمل اختیار نہ کرنے تک ایسا ہی رہے گا۔

سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے۔ تاہم تکنیکی وجوہات کی بنا پر ضروری ہے کہ گزرنے والے جہاز ایرانی افواج سے رابطہ رکھیں۔ ایرانی وزیر کا کہنا تھا ہم آبنائے ہرمز میں موجود اپنے محفوظ راستوں کے ذریعے جہازوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنائیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles