
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں آبنائے ہرمز ایک عظیم جنگی بساط بن چکی ہے۔ جس پر غلبہ پانے والا ہی اس جنگ کا فاتح قرار دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جھکانے کے لیے ایک ایسا داؤ کھیلا ہے جسے دفاعی اصطلاح میں ’کاؤنٹر بلاکیڈ‘ یا جوابی ناکہ بندی کہا جاتا ہے۔
’اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل امن مذاکرات کی ناکامی کے فوری بعد، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر اس جہاز کو روکیں گے جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہا ہو یا وہاں سے آ رہا ہوگا۔
یہ اقدام ایران کی اس جنگی حکمت عملی کا جواب ہے جس کے تحت وہ اس تنگ بحری راستے کو بند کر کے عالمی معیشت پر اثرانداز ہونے اور دنیا پر دباؤ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
اس نئی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا ہوگا۔
جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے، تو ایران نے جواباً آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھا دیں، جس سے عالمی جہاز رانی ٹھپ ہو کر رہ گئی۔
حال ہی میں ایران نے یہ راستہ دوبارہ کھولا تو سہی، لیکن ایک ’ٹوئسٹ‘ کے ساتھ۔
ایران نے اسلام آباد مذاکرات کی ایک بڑی شرط تو مان لی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے گا، مگر پھر ایران نے بین الاقوامی بحری راستوں میں بارودی سرنگوں کے خطرے کو جواز بنا کر جہازوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایرانی حدود میں واقع جزیرہ قشم اور لارک کے قریب سے گزریں۔
یہ بارودی سرنگیں خود ایران نے ہی بچھائی تھیں، مگر اب وہ جہازوں کو اپنے علاقے سے گزار کر غالباً ان سے ٹیکس یا ٹول وصول کر رہا ہے۔
امریکا کی سینٹرل کمان یعنی ’سینٹ کام‘ نے اب اس کا یہ توڑ نکالا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کردی جائے۔
سینٹ کام کے مطابق یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی مگر وہ جہاز جو غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس صورتحال پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی بنیادی شرط کی خلاف ورزی کی ہے اور اب ہمیں قدم اٹھانا پڑے گا۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ دنیا کا 20 فیصد سے زیادہ تیل اور گیس اسی چھوٹے سے راستے سے گزرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکا اس ناکہ بندی کو نافذ کیسے کرے گا؟
امریکی بحریہ کو دو بڑے کام کرنے ہوں گے: پہلا، ایران کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنا اور دوسرا، ایرانی بندرگاہوں کی پہرہ داری کرنا۔
اس وقت امریکا کے پاس اس علاقے میں دو بڑے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن اور رونالڈ ریگن اور دو ایمفی بیئس گروپس موجود ہیں، جن میں 20 سے زیادہ جنگی جہاز اور 200 سے زائد طیارے شامل ہیں۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ 12 اپریل سے دو امریکی بحری جہاز اس علاقے میں سرنگیں صاف کرنے کا آپریشن شروع کرچکے ہیں۔
اگر امریکا یہاں ناکہ بندی کرتا ہے تو ایران ایک ایسا ملک بن کر رہ جائے گا جس کا سمندر سے رابطہ کٹ گیا ہو۔
ایران اپنی توانائی کی برآمدات اور چین سے آنے والے ان کیمیکلز کے لیے انہی راستوں کا محتاج ہے جو میزائلوں کا ایندھن بنانے میں کام آتے ہیں۔
دوسری طرف ایران بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بحری ناکہ بندیوں نے ہی آبدوزوں کی جنگ کو جنم دیا تھا۔
ایران کے پاس غدیر کلاس کی تقریباً 20 چھوٹی آبدوزیں ہیں جو خاص طور پر اسی طرح کی صورتحال کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے پاس ڈرونز اور ایسے میزائل بھی ہیں جو جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اگرچہ ایران کی بڑی بحریہ کا بیشتر حصہ امریکا پہلے ہی تباہ کر چکا ہے، مگر ایران کے پاس اب بھی بارودی سرنگوں اور چھوٹی آبدوزوں کا وہ قلعہ موجود ہے جو قریب آنے والے کسی بھی دشمن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 21 ویں صدی کی ایک ایسی جنگ ہے جہاں ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین بحریہ ہے اور دوسری طرف ایران کا وہ دفاعی قلعہ جو اپنی زمین اور ساحل کے قریب رہ کر لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ پر عزم ہیں کہ وہ اس ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے، جبکہ ایران اپنی بارودی سرنگوں اور چھوٹی آبدوزوں کے ذریعے اس محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سمندری مقابلے میں جیت کس کی ہوتی ہے، کیونکہ اس کا اثر براہ راست پوری دنیا کی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر پڑنے والا ہے۔