
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی بھتہ خوری کے مترادف ہے اور امریکا اس دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری تفصیلی بیانات میں کہا ہے کہ اگرچہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق ہوا، تاہم سب سے اہم مسئلہ یعنی جوہری پروگرام پر کوئی اتفاق پیدا نہیں ہوسکا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گیا اور سمندر میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا جواز دے کر عالمی تجارت کو یرغمال بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جہاز رانی کمپنی ایسے خطرات مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایران کی جانب سے عائد کیے گئے مبینہ غیر قانونی ٹول ٹیکس اور بحری راستوں پر پیدا کردہ خطرات کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے تمام جہازوں کو روک کر تلاشی لے جو ایران کو ٹول ادا کرتے ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس ناکہ بندی میں دیگر ممالک بھی امریکا کا ساتھ دیں گے اور ایران کو اس مبینہ غیر قانونی اقدام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے دھمکی دی کہ اگر ایران کی جانب سے امریکی یا کسی دوسرے ملک کے جہازوں پر فائرنگ کی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔