
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر غور ایک مبینہ منصوبے میں وینزویلا کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی سامنے آئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز سمیت اہم تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور سمندری حدود کا ہر صورت دفاع جاری رکھے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت وینزویلا کے خلاف استعمال ہونے والی حکمت عملی کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وینزویلا کے خلاف بحری ناکہ بندی ماضی میں اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، اور اسی ماڈل کو ایران پر بھی لاگو کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق اگر اسے نافذ کیا گیا تو یہ ناکہ بندی صرف تیل کی برآمدات ہی نہیں بلکہ ایران کی تمام تجارتی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گی، اور بحری راستوں کے ذریعے ہونے والی ہر قسم کی ترسیل روک دی جائے گی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تین کیریئر اسٹرائیک گروپس کی مدد سے اس ممکنہ بحری ناکہ بندی کو عملی شکل دی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے خطے میں بحری نگرانی اور دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور سمندری حدود کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا۔ ایرانی موقف کے مطابق آبنائے ہرمز پر اس کی موجودگی اور کنٹرول برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس نوعیت کی بحری ناکہ بندی نافذ کی گئی تو اس کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جوابی پابندیاں یا بندش کا امکان بھی موجود ہے، جو عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی بڑی کشیدگی یا بندش کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی توانائی تجارت کا ایک انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے۔