
ایران کی مسلح افواج نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی شروع کرنے کا دعویٰ مسترد کردیا۔
امریکی سینٹ کوم نے کہا تھا کہ دو گائیڈڈ میزائل بردار امریکی بحری جنگی جہازوں نے آپریشن میں حصہ لیا۔ آنے والے دنوں میں اضافی امریکی فوج اور زیر آب ڈرونز بھی اس آپریشن میں شامل ہوں گے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا تھا کہ امریکی جہازوں یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور مائیکل مرفی نے آبی گزرگاہ کی حفاظت کے لیے آپریشن کیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے کمانڈ مرکز خاتم الانبیاء کے ترجمان نے امریکی دعوے کو ’’سختی سے‘‘ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے امریکی جہازوں کی گزرگاہ کے دعوے درست نہیں۔
امریکی اخبارنیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران خود ان بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے میں مشکلات کا شکار ہے جو اس نے آبنائے ہرمز میں بچھائی تھیں، اور نہ ہی اس کے پاس انہیں فوری طور پر ہٹانے کی صلاحیت موجود ہے، جس کے باعث بحری آمد و رفت مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے اعلان کے بعد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان چھوٹی کشتیوں کی سرگرمیوں پر مکمل نظر رکھنا ممکن نہ تھا، جس کے باعث سرنگوں کی تعداد اور مقام کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔
ایران نے محدود تعداد میں کچھ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے جہازوں کو جنہیں وہ دوست سمجھتا ہے اور جنہوں نے فیس ادا کی۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نے بارودی سرنگیں بے ترتیب انداز میں نصب کیں اور ممکن ہے کہ ان کے مقامات کا مکمل ریکارڈ بھی موجود نہ ہو۔ کچھ سرنگیں اپنی جگہ سے ہٹ کر بہہ بھی گئی ہوں۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ ایران اور نہ ہی امریکا اس وقت فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر اس صورتحال میں جب ایران کی بحریہ کو جنگ کے دوران نقصان پہنچا۔
قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا تھا کہ دو امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرکے خلیج عرب میں داخل ہوئے اور یہ کارروائی ایک وسیع تر مشن کا حصہ تھی جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو اُن بحری بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر پاک کرنا تھا جو مبینہ طور پر ایران کی پاسداران انقلاب نے نصب کی تھیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ امریکا جلد ہی آبنائے ہرمز کو کھول دے گا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک بھی اس عمل میں مدد کی پیشکش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیا۔
۔