اسلام آباد مذاکرات: امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کے اہم نکات کیا ہیں؟

امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام ہفتے کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ساتھ بیٹھنے والے ہیں۔ ان مذاکرات میں کئی ایسے پیچیدہ معاملات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے جن پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ باقاعدہ بات چیت کا آغاز اسی صورت میں ہوگا جب واشنگٹن لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت دے گا۔

مذاکرات کا ایک بڑا نکتہ لبنان کی صورتحال ہے۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ لبنان میں فوری طور پر حملے روکے جائیں جہاں اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک دو ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

تہران کا اصرار ہے کہ لبنان کی صورتحال اس جنگ بندی کا حصہ ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کا موقف ہے کہ لبنان پر حملے کی مہم اس کا حصہ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ایران اپنے ان اثاثوں کی بحالی اور معاشی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے جنہوں نے برسوں سے اس کی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔

واشنگٹن نے پابندیوں میں نرمی کا اشارہ تو دیا ہے لیکن بدلے میں ایران سے اس کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں پر سمجھوتہ مانگا ہے۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول بھی ایک حساس موضوع بن کر ابھرا ہے۔

ایران اس اہم بحری راستے پر اپنی حاکمیت تسلیم کروانا چاہتا ہے تاکہ وہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کر سکے، جبکہ امریکا کا مطالبہ ہے کہ اس راستے کو بغیر کسی فیس یا پابندی کے تمام عالمی ٹریفک کے لیے کھولا جائے۔

اس کے علاوہ ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے جس پر تہران کا موقف ہے کہ تمام نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جو کہ امریکا کے لیے ایک غیر لچکدار مطالبہ ہے۔

اسرائیل اور امریکا دونوں چاہتے ہیں کہ ایران کی میزائل صلاحیتوں میں بڑی حد تک کمی لائی جائے، مگر تہران کا کہنا ہے کہ اس کا دفاعی میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔

ایران خطے سے امریکی افواج کا انخلا اور عدم جارحیت کا عہد چاہتا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں ہو جاتا، امریکی فوج خطے میں موجود رہے گی۔

انہوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو لڑائی میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد کی یہ بیٹھک ان سنگین چیلنجز کا کیا حل نکالتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles