
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کا آج سے باضابطہ آغاز ہو رہا ہے۔ ان تاریخی مذاکرات میں شرکت کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔
ایرانی وفد کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود ایئر پورٹ پر انہیں خوش آمدید کہا۔ وفد کے استقبال کے لیے وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی موجود تھے۔
یہ وفد مجموعی طور پر 70 افراد پر مشتمل ہے، جس میں 26 تکنیکی ماہرین اور خصوصی کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔
یہ کمیٹیاں معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتی ہیں اور مذاکرات کے دوران اپنی ماہرانہ رائے پیش کریں گی۔ اس کے علاوہ وفد میں 23 میڈیا نمائندے بھی شامل ہیں جو ان مذاکرات کی کوریج کریں گے۔
وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری علی اکبر، سینٹرل بینک کے سربراہ عبدالناصر اور متعدد ایرانی اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد پہنچنے والے اس وفد کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کو کامیاب بنانا ہے۔
اس پرواز کے دوران ایک انتہائی جذباتی منظر بھی دیکھا گیا جب ایرانی وفد کے جہاز کی سامنے والی قطاروں کو مکمل طور پر خالی چھوڑا گیا۔
یہ اقدام میناب میں ہونے والی کارروائی میں جان کی بازی ہارنے والے 168 بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
باقر قالیباف نے ان خالی نشستوں کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ایک خاموش یادگار کے طور پر لکھا کہ یہ معصوم بچے اس پرواز میں میرے ساتھی ہیں۔
ایران کے اس اقدام کا مقصد عالمی برادری کو جنگ کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصان کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
پاکستان پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ یہاں آیا ہے۔
انہوں نے اپنے موقف میں سختی برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکا پر کوئی اعتماد نہیں ہے، لیکن اگر امریکا ہمارے حقوق تسلیم کرے اور ایک حقیقی معاہدہ پیش کرے تو ہم معاہدے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستانی حکام نے ایرانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا ہے اور تمام ضروری سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
امریکی وفد سے باضابطہ بات چیت شروع کرنے سے قبل ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جہاں مذاکرات کے طریقہ کار اور ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی ممکنہ شرائط پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اب پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں ایران اور امریکا کے وفود پاکستان کی میزبانی میں بیٹھ کر ایک ایسے حل کی تلاش کریں گے جو نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و امان کے لیے سودمند ثابت ہو۔