اسرائیل پر تنقید: نیتن یاہو کا اسپین کو ’غزہ مانیٹرنگ باڈی‘ سے نکالنے کا اعلان

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی زیرِ قیادت غزہ میں قیامِ امن کی نگرانی کرنے والے ’کوآرڈینیشن سینٹر‘ سے اسپین کو بے دخل کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اسپین کی جانب سے ایران جنگ پر اسرائیل کی مسلسل اور شدید مخالفت کے بعد سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے جمعے کو ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیل زبانی یا سفارتی سطح پر اس کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف خاموش نہیں رہے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسپین نے اسرائیلی فوج کے اہلکاروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جو ممالک دشمنوں کے بجائے اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں، وہ خطے کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیل کے شراکت دار نہیں ہو سکتے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2025 میں امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے ’غزہ امن معاہدے‘ کے تحت اسرائیلی شہر کریات گت میں ’سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر‘ کے نام سے ایک کثیر القومی ادارہ قائم کیا گیا تھا۔ جس کا بنیادی مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں غزہ کے لیے طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا ہے۔

اسرائیل کا یہ فیصلہ بنیادی طور پر ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے حالیہ بیانات کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے ناقد عالمی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے ایران پر حملے کو غیر قانونی، غیر ذمہ دارانہ اور غیر منصفانہ قرار دیا تھا، جس کے بعد سے اسرائیل اور اسپین کے درمیان سفارتی تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔

لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد ہسپانوی وزیراعظم نے نیتن یاہو کا نام لے کر ان پر تنقید کی تھی اور یورپی یونین سے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اسپین کو ’سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر‘ سے نکالنے کے فیصلہ کے بعد اس کثیر القومی اتحاد کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles