
ایرانی قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا تاہم امریکا کی مبینہ دھوکہ دہی والی فطرت کے باعث گہرے شکوک و شبہات برقرار رہیں گے۔
ایرانی حکام نے جنگ بندی کے عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے خطے کی صورتحال اور آئندہ حکمت عملی سے متعلق اہم بیانات بھی دیے ہیں۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ایران اسلام آباد مذاکرات میں فعال شرکت کرے گا تاہم امریکا کی مبینہ غیر قابل اعتماد فطرت کے باعث شکوک و شبہات موجود رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا ہدف ایران کی فوجی کامیابیوں کو سفارتی سطح پر مزید تقویت دینا ہوگا۔
محمد رضا نے کہا کہ چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران نے دشمن کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کیا اور یہ جنگ خطے میں اسٹریٹیجک حکمت عملیوں کے حوالے سے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔
ایرانی نائب صدر کے مطابق ایرانی قوم کے عزم نے دشمن کو سیاسی اور سکیورٹی محاذوں پر تاریخی شکست سے دوچار کیا۔
دوسری جانب ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور آگ کو فوری طور پر بجھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں نام لیے بغیر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی ان کی 10 نکاتی تجاویز کا پہلا نکتہ ہے۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف لبنان کے معاملے پر واضح طور پر زور دے چکے ہیں اور اس معاملے سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
ان کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
ادھر ایرانی نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے تیار تھا تاہم پاکستان کی مداخلت کے باعث کارروائی روک دی گئی۔