
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بات چیت کی تیاری جاری ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر گہرے اختلافات برقرار ہیں، جس سے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وفد 10 نکاتی فارمولے کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہا ہے جب کہ امریکا کی جانب سے پہلے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے سے اس میں واضح فرق موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے مؤقف میں کم مماثلت ہونے کے باعث مذاکرات میں بڑی رکاوٹیں درپیش ہو سکتی ہیں۔
ایران اپنے جوہری پروگرام کے تحت یورینیم افزودگی کا حق برقرار رکھنا چاہتا ہے، جسے امریکا مسترد کر چکا ہے اور اسے ناقابلِ مذاکرات قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایران کے میزائل پروگرام پر بھی اختلافات موجود ہیں کیوں کہ امریکا اور اسرائیل اس میں کمی چاہتے ہیں جب کہ تہران اسے غیر مذاکراتی معاملہ قرار دیتا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات میں آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی سرفہرست ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے کی بندش سے عالمی منڈی متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ کسی مستقل معاہدے کی صورت میں وہ اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کی تجاویز میں پابندیوں کے خاتمے، خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور لبنان سمیت دیگر محاذوں پر جنگ بندی جیسے نکات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکا ایران سے یورینیم افزودگی روکنے، میزائل پروگرام محدود کرنے اور خطے میں اتحادیوں کی مالی معاونت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کی صورت حال بھی مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہوں گی۔ اس کے برعکس ایران نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کسی بھی معاہدے کے لیے لازمی شرط ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں تاہم موجودہ اختلافات کے پیش نظر فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔