
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وحشیانہ بمباری کے بعد لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ بھی شامل ہوگا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ لبنان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کی بار بار درخواستوں کے پیشِ نظر انہوں نے کابینہ کو ہدایت دی ہے کہ لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہِ راست مذاکرات شروع کیے جائیں۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کی کوششیں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب لبنانی حکومت کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم اسرائیلی بیان سے کچھ دیر قبل لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ موجودہ صورت حال کا واحد حل جنگ بندی اور اس کے بعد براہِ راست مذاکرات ہیں۔
لبنانی صدر کے مطابق وہ اس حوالے سے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، جنہیں عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات آئندہ ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، جس کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوگا، جہاں تینوں فریقوں کی نمائندگی سفارتی سطح پر کی جائے گی۔
امریکی وفد کی قیادت لبنان میں تعینات امریکی سفیر مائیکل عیسیٰ کریں گے جب کہ اسرائیل کی نمائندگی واشنگٹن میں تعینات اس کے سفیر یخیل لیٹر کریں گے۔ لبنان کی جانب سے بھی واشنگٹن میں تعینات سفیر ندا حمادہ معوض مذاکرات میں شرکت کریں گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ براہِ راست مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کی جانب سے 2 مارچ کو حملوں کے بعد دوبارہ کارروائیاں شروع کیں۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تقریباً 1700 افراد ہلاک جب کہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے کم از کم 400 جنگجو بھی مارے جا چکے ہیں جب کہ تنظیم کی جانب سے اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔