
واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے عارضی جنگ بندی معاہدے میں ایران کے ساتھ لبنان بھی شامل ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، جنہوں نے اس سیز فائر میں اہم کردار ادا کیا ہے، پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں سمیت لبنان اور دیگر تمام علاقوں میں فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
لیکن اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 254 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بھی ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیاں سویلین علاقوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
اس صورتحال پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ثالثوں کے مؤقف کے برعکس دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔
اسی طرح وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی نظر میں لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور یہ بات تمام متعلقہ فریقوں کو بتا دی گئی ہے۔
تاہم پاکستانی سفیر نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعظم پاکستان کا بیان حقیقت پر مبنی ہے اور فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ ایران کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی حملے روکے جائیں گے۔
انہوں نے اس حوالے سے کیے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”چونکہ یہ وضاحت اور فہم پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے سامنے آئی ہے، اس لیے وزیراعظم کی جانب سے پیش کی گئی پیشکش اور دونوں متحارب فریقین کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی قبولیت کے حوالے سے اس سے زیادہ مستند کوئی بات نہیں ہو سکتی۔“
انہوں نے کہا کہ ”اس کی صداقت اور اس سے وابستہ مفاہمت پر شک کی گنجائش نہیں ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ جنگ بندی کی ایک ایسی صورتحال ہے جس میں خلل پڑ سکتا ہے اور ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں جنگ بندی کو سبوتاژ کیا گیا۔ ہم سب شاید یہی چاہیں گے کہ سب کچھ بہتری کی طرف جائے۔“
جب سوال کیا گیا کہ ”آپ وزیراعظم پاکستان کے اس بیان کی کی تصدیق کر رہے ہیں کہ لبنان اس جنگ بندی میں شامل ہے، باوجود اس کے کہ آج ہم نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے اس کے برعکس سنا ہے؟“
تو رضوان سعید نے کہا کہ ”چونکہ پاکستان ایک مخلص سہولت کار ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین سطح سے آنے والی مفاہمت کو ترجیح اور مکمل طور پر مستند تسلیم کیا جانا چاہیے۔“
رضوان سعید شیخ نے لبنان پر اسرائیلی حملوں اور امریکا کے انکار پر کہا کہ یہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح اسرائیل کے اقدامات جنگ بندی کو نقصان پہنچاتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی کئی بار معاہدے توڑے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سخت پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ اب امریکا کو انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ امن چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے امریکا اپنے وعدوں پر کتنا پورا اترتا ہے اور اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ایکس پر وزیراعظم شہباز شریف کا ٹوئٹ اور امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کیرولین لیوٹ کا لبنان میں جنگ بندی سے انکار کا بیان ایک ساتھ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”اگر یہ امریکا کی جانب سے ایک بار پھر وقت سے پہلے وعدہ خلافی نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے؟“