
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے متبادل راستوں کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ اس اہم بحری گزرگاہ میں سمندری بارودی سرنگوں کے ممکنہ خطرات کو قرار دیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اس راستے کو دوبارہ کھولنے پر راضی ہوا ہے جہاں سے عام حالات میں دنیا کے تیل کی کل رسد کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ سمندری تحفظ کے اصولوں پر عمل کرنے اور بارودی سرنگوں سے ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے ٹریفک کے متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔
اس بیان میں جہازوں کے آنے اور جانے کے لیے مخصوص ہدایات اور نئے راستوں کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
تہران نے مارچ کے آغاز سے ہی اس اہم تجارتی راستے کو بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئی تھیں۔
ایران کے اس تازہ اقدام کو ماہرین ایک حفاظتی تدبیر کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
تاہم متبادل راستوں کے استعمال سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کچھ تاخیر کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران کے اس اقدام سے اگرچہ راستہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا خوف اب بھی تجارتی جہازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔