
لبنان پر اسرائیل کے تازہ حملوں نے سیز فائر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
بدھ سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 254 افراد شہید اور تقریباً 1100 زخمی ہو چکے ہیں، متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے رات کے اوقات میں بھی جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے، جن کے نتیجے میں ایک پوری عمارت تباہ ہو گئی۔ لبنانی شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری نے ان کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے تقریباً 100 کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
لبنان کی حکومت نے اسرائیلی حملوں کے خلاف آج یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے علاقے منارا پر راکٹ حملہ کیا۔
حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائی سیز فائر کی خلاف ورزی کا جواب ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے داغے گئے راکٹوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
اسی حوالے سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے واضح کیا ہے کہ لبنان سیز فائر معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور اس حوالے سے فریقین کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور امریکا اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان کے مطابق امریکا کا ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی وفد اسلام آباد جا رہا ہے، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کو متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورینیم افزودگی کا خاتمہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریڈ لائن ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان کو حزب اللہ کی موجودگی کے باعث سیز فائر معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا اور یہ ایک الگ معاملہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ عناصر جعلی معاہدے اور خطوط پھیلا رہے ہیں جن کا اصل مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ان معاملات کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف چند نکات امریکا کے لیے قابل قبول ہیں اور انہی پر بند کمروں میں بات چیت جاری ہے، جبکہ انہی نکات کی بنیاد پر سیز فائر ممکن ہوا۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا خصوصاً سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض غیر مستند ذرائع کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، حالانکہ ان کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں