
پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد اب دونوں ممالک کے وفود جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اس اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ مجھے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں دونوں جانب سے اس دانشمندانہ فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں اور انہیں حتمی معاہدے کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات خطے میں پائیدار امن کا سبب بنیں گے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض ایک گھنٹہ باقی تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو کے بعد میں ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے پر تیار ہوں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔
انہوں نے اسے دونوں طرفہ جنگ بندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب ہم ایک طویل مدتی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو ہماری افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی، ہم نے مذاکرات کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے واضح کیا ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزرنا ایرانی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہوگا۔
ایرانی نیوز ایجنسی “’اِرنا‘ کے مطابق، جمعہ کو ہونے والے ان تاریخی مذاکرات میں ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کیے جانے کا امکان ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ ان مذاکرات میں ایٹمی پروگرام کے ساتھ ساتھ 45 سال سے لگی امریکی پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان اہم مذاکرات کے حوالے سے واشنگٹن میں تیاریاں جاری ہیں۔
پاکستان کی اس ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ جنگ جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی تھی بلکہ اس نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔
اب پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں جمعہ سے شروع ہونے والی بات چیت اس تباہ کن تنازع کے مستقل خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے دن رات کام کیا۔