یورینیم افزودگی، ہرمز کا کنٹرول: ایران کی 10 شرائط کیا ہیں؟

پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران نے اسے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی ایک بڑی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی دھمکیاں واپس لینا اور مذاکرات پر آمادگی دراصل ایران کے دس نکاتی منصوبے کو اصولی طور پر تسلیم کرنا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران نے ایک بڑی فتح حاصل کی ہے اور مجرم امریکا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہمارے دس نکاتی منصوبے کو قبول کرے۔

کونسل کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن ایک ماہ سے جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا لیکن ایران نے تمام ڈیڈ لائنز کو مسترد کرتے ہوئے جنگ جاری رکھی تاکہ دشمن کو پشیمان کیا جا سکے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کہا کہ اگر ایران کے خلاف حملے بند کر دیے جائیں تو تہران اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی نگرانی کریں گی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا نے مذاکرات کے لیے ایران کے دس نکاتی منصوبے کے عمومی ڈھانچے کو قبول کر لیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کے یورینیم کے معاملے کو بہترین طریقے سے سنبھال لیا جائے گا، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

ایران کے اس دس نکاتی منصوبے میں انتہائی سخت مطالبات شامل ہیں جن میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت نہ کرنے کا امریکی وعدہ، آبنائے ہرمز پر ایران کا مستقل کنٹرول اور ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کرنا سرفہرست ہیں۔

اس کے علاوہ ایران نے تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی منسوخی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور خطے سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بند ہونی چاہیے، حالانکہ اسرائیل نے لبنان کے حوالے سے اپنا موقف الگ رکھا ہے۔

اس تمام تر پیش رفت کے باوجود ایران نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک عارضی وقفہ ہے اور اسے جنگ کا خاتمہ نہ سمجھا جائے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ صرف اسی صورت ختم ہوگی جب مذاکرات کے ذریعے ان کے تمام مطالبات کی تفصیلات طے پا جائیں گی۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاتھ اب بھی ٹریگر پر ہیں اور اگر دشمن نے ذرا سی بھی غلطی کی تو اسے پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

تہران اس وقت جنگ بندی کو اپنی طاقت منوانے اور خطے کی سیاست کو اپنے حق میں بدلنے کے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے ابھی تک ایران کے ان بلند و بانگ دعوؤں کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles