مہنگا پیٹرول اور قلت کا ڈر: پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ


مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے جہاں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دی ہے، وہیں پاکستان میں اس صورتحال نے ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مستقبل میں اس کی ممکنہ قلت کے ڈر سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد اب روایتی موٹر سائیکلوں کو چھوڑ کر بجلی سے چلنے والی الیکٹرک بائیکس (ای وی) کا رخ کر رہی ہے۔
راولپنڈی میں پرانی بائیکس کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے والے حسیب بھٹی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ کے مہینے میں ان کی فروخت میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ الیکٹرک بائیک اسٹورز کے مالک علی گوہر خان کا کہنا ہے کہ ”لوگوں کے دلوں میں یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ شاید مستقبل قریب میں انہیں پیٹرول ملے ہی نہ۔“
پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً تمام تیل آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتا ہے اور حالیہ کشیدگی کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

کراچی میں سیکیورٹی گارڈ کے فرائض انجام دینے والے ظہور احمد نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میری ماہانہ تنخواہ تیس ہزار روپے ہے، جس میں بمشکل چھ افراد پر مشتمل خاندان کا گزارہ ہوتا ہے۔ ایسے میں میں اپنی بائیک میں پیٹرول کیسے ڈلواؤں؟“
اسی طرح حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی وکیل مہوش قریشی کا کہنا ہے کہ ”مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے الیکٹرک اسکوٹر خرید لیا ہے۔“

اس رجحان کو دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے بھی الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ’پیو‘ (PAVE) نامی منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت شہریوں کو سبسڈیز اور بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مشیر عدنان پاشا کا کہنا ہے کہ ”صرف بیس لاکھ گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنے سے سالانہ تقریباً آدھا ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے، کیونکہ ہمیں وہ ایندھن درآمد نہیں کرنا پڑے گا۔“

ماہرین کے مطابق پاکستان میں پہلے سے موجود سولر سسٹم کا جال الیکٹرک بائیکس کے لیے بہت مددگار ثابت ہو رہا ہے کیونکہ لوگ اب گھروں میں ہی مفت بجلی سے اپنی بائیکس چارج کر رہے ہیں۔

اگرچہ الیکٹرک بائیکس کی قیمت روایتی بائیکس سے زیادہ ہے، لیکن طویل مدت میں ان کا خرچ پیٹرول کے مقابلے میں دس گنا کم ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چینی کمپنیوں کی بھرمار کے باوجود پاکستان میں ان بائیکس کی مرمت اور چارجنگ اسٹیشنز کا جال بچھانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

انرجی فنانس کے ماہر احتشام احمد کا کہنا ہے کہ ”اگر فروخت کے بعد سروس کا نظام بہتر نہ بنایا گیا تو صارفین کا اعتماد اس نئی ٹیکنالوجی سے اٹھ سکتا ہے۔“
اس کے باوجود موجودہ معاشی حالات اور پیٹرول کے بحران نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے انقلاب کی رفتار کو تیز کر دیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles